امریکا اور ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے، وال اسٹریٹ
- رپورٹ کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور سفارتی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن اور تہران ایک عارضی مفاہمت پر غور کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کیلئے باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور سفارتی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اسلام آباد کو آئندہ مذاکراتی دور کیلئے ممکنہ مقام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک دورِ مذاکرات ہو چکا ہے، تاہم بعد میں مزید ملاقاتوں کی کوششیں کسی بڑی پیش رفت پر منتج نہ ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام ثالثوں کے ساتھ مل کر ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کام کر رہے ہیں۔ مجوزہ دستاویز تقریباً ایک ماہ پر محیط باضابطہ مذاکرات کا فریم ورک فراہم کرے گی، جبکہ پیش رفت کی صورت میں اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کے مستقبل پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ ایک تجویز کے تحت ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ امریکا ایران سے یورینیم افزودگی محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ تہران واضح پابندیوں میں نرمی اور معاشی ریلیف چاہتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگی۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں کم کرے گا جبکہ امریکا 30 دن کے دوران ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کرے گا۔


Comments