اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزیاں، وزیراعظم کا ڈسکوز کے خلاف کارروائی کا حکم
- شہباز شریف نے ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کے لیے اقدامات کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز درآمدی ایندھن پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا، جس سے توانائی کے اس شعبے میں اصلاحات کی نئی کوششوں کا عندیہ ملتا ہے جو طویل عرصے سے نااہلی اور بدعنوانی کا شکار رہا ہے۔
بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے مستقبل کی توانائی ضروریات کو قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس سے بجلی کی پیداوار بڑھانے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی ترقی پائیدار معاشی ترقی اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ حال ہی میں اکنامک میرٹ آرڈر(ای ایم او) کی خلاف ورزی کرنے والی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے بجلی چوری کے زیادہ شکار علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے منصوبوں کو فوری نافذ کرنے کی ہدایت بھی دی۔
شہباز شریف نے ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کے لیے اقدامات کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے وہیلنگ سسٹم کے تحت پہلے مرحلے میں نجی شعبے کی جانب سے 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کو جلد از جلد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں مؤثر اقدامات کے باعث بجلی چوری، نادہندگی اور دیگر ترسیلی نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق جون 2024 میں 18.3 فیصد رہنے والے نقصانات مارچ 2026 میں کم ہو کر 15.3 فیصد ہو گئے، جبکہ اسی مدت کے دوران بلوں کی وصولی کی شرح 90 فیصد سے بڑھ کر 96.46 فیصد تک پہنچ گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تین ڈسکوز میں نجی شعبے کی شمولیت کا عمل جاری ہے، جس کی بولی کا مرحلہ نومبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 2,500 ایسے فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں جو پہلے خسارے میں تھے۔
اجلاس میں وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی (پاور ڈویژن) اوَیس لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم کی یہ ہدایات حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے کو جدید بنانے، کارکردگی بہتر کرنے اور درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینے کی وسیع تر حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments