پاناما کا مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران نہر پاناما کی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا عزم
- ایک ماہ سے جاری اس تنازع کے باعث ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے،
پاناما نے منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں اپنے نہرِ پاناما کی غیر جانبداری کو دوبارہ برقرار رکھنے اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک ماہ سے جاری اس تنازع کے باعث ایران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جو خلیجی ممالک سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال کے بعد جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ نہرِ پاناما کی جانب ہو گیا ہے۔
پاناما کے وزیر خارجہ خاویر مارٹینز-آچا نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈیون سار سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران نہر کی غیر جانبداری کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی حالات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاناما کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے نہرِ پاناما کی غیر جانبداری کو عالمی تجارت کا ایک اہم ستون قرار دیا اور کہا کہ کلیدی بحری اور توانائی ترسیلی راستوں میں استحکام برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
نہرِ پاناما کے حکام کے مطابق جنوری میں جہاں یومیہ تقریباً 34 جہاز گزرتے تھے، اب یہ تعداد بڑھ کر 50 تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا کی تقریباً 5 فیصد بحری تجارت اسی نہر کے ذریعے ہوتی ہے، جس کے بڑے صارفین امریکہ اور چین ہیں۔
یہ نہر بنیادی طور پر امریکہ کے مشرقی ساحل کو ایشیا، جنوبی کوریا اور جاپان سے ملاتی ہے۔


Comments