کانگریس سے خطاب میں کنگ چارلس کا برطانیہ امریکہ اتحاد پر زور
- اپنے خطاب میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید اور یوکرین جنگ میں امریکی کردار پر تبصرہ بھی کیا
برطانیہ کے کنگ چارلس نے منگل کے روز امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود غیر یقینی صورتحال اور تنازعات کے باوجود برطانیہ اور امریکہ ہمیشہ مضبوط اتحادی رہیں گے، جو جمہوریت کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک امن، اپنے عوام کے تحفظ اور ان افراد کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں جو روزانہ اپنی جانوں کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ کنگ چارلس نے یہ خطاب امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے کیا، جہاں ان کی آمد پر طویل تالیوں سے استقبال کیا گیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید اور یوکرین جنگ میں امریکی کردار پر تبصرہ بھی کیا، جبکہ تنہائی پسندی (آئسولیشنزم) کے خطرات پر خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے ہمیشہ جنگوں اور عالمی بحرانوں میں ایک ساتھ کھڑے ہو کر اپنی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سرکاری عشائیے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کا بادشاہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دینا چاہتا، تاہم کنگ چارلس نے اس پر کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال پر قابو پا رہا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔
کانگریس سے خطاب میں کنگ چارلس نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے ہمیشہ مل کر دہشت گردی، افغانستان، سرد جنگ اور دیگر بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے یوکرین کے لیے مسلسل حمایت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بعد میں انہوں نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جن میں ایمیزون کے بانی جیف بیزوس، ایپل کے سی ای او ٹم کک اور این ویڈیا کے سربراہ سمیت دیگر شامل تھے۔
یہ دورہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان ایران تنازع اور دیگر عالمی مسائل پر کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے، تاہم دونوں ممالک نے اتحاد اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔


Comments