امریکا اور ایران جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں، پاکستان کا دونوں فریقین پر زور
- نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور ”مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دیں“۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر سے ملاقات میں امریکا اور ایران کے درمیان روابط اور کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ خارجہ نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے مسائل کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے صرف مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان روابط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور مذاکرات و سفارت کاری کو موقع دیں۔
مزید کہا گیا کہ امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں پاکستان کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور آخرکار ایک ”بہترین معاہدے“ تک پہنچے گا۔
جنگ بندی میں توسیع کے امکان سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا: ”میں ایسا نہیں چاہتا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔“
ادھر واشنگٹن نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے، جبکہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران ان مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے۔
تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ تاحال ایران کا کوئی وفد پاکستان میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ نہیں ہوا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق: ”ابھی تک ایران کا کوئی وفد اسلام آباد، پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوا، چاہے وہ مرکزی ہو یا ذیلی، ابتدائی ہو یا ثانوی،“ اور اس نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں اس کے برعکس دعویٰ کیا گیا تھا۔


Comments