BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

ایرانی صدر کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف، امن مذاکرات کیلئے اعتماد سازی پر زور

  • وزیراعظم شہباز شریف اورایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مذاکرات اور ثالثی کیلئے باہمی اعتماد سازی کی اشد ضرورت ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر پزشکیان نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کے معاون کردار پر وزیراعظم شہبازشریف کی تعریف کی۔ صدر نے ایران کے خلاف اسرائیل کی جانب سے جاری حالیہ جارحانہ عزائم اور حملوں کے حوالے سے اپنا موقف بھی بیان کیا۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری جارحیت اور امن کی کوششوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اتوار کو اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ دو روزہ دورے پر مبنی یہ مشن مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے تنازع کو روکنے کے لیے ایک بڑی سفارتی کوشش کا حصہ ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

دورے کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی جس میں  خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سرفہرست ہوں گی، مہمان وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہنے والی تفصیلی گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بشمول جمعہ کو سویلین انفرااسٹرکچر پر کیے گئے حالیہ حملوں کی پاکستان کی جانب سے دوبارہ مذمت کی۔

انہوں نے ان مشکل حالات میں ایران کے بہادر عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی اور بے گھر ہونے والے افراد کے لیے دعا بھی کی۔

وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا جن کا مقصد امن مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی مؤثر راہ نکلے گی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام لانے کیلئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کو آگے بڑھانے اور مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہنے پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے انہیں امریکہ، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری پاکستان کی سفارتی رسائی سے آگاہ کیا تاکہ مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

Comments

Comments are closed.