ایران جنگ کے دوران پیٹرول مہنگا ہو تو ہو جائے ہمیں فکر نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
- ان کا یہ بیان ان کے سابقہ مؤقف سے کچھ مختلف سمجھا جا رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر انہیں کوئی خاص تشویش نہیں، کیونکہ ان کے مطابق اس وقت امریکی فوجی کارروائی زیادہ اہم ترجیح ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں بڑھ بھی جائیں تو یہ عارضی صورتحال ہوگی اور جنگ ختم ہونے کے بعد قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں تھوڑا اضافہ زیادہ اہم مسئلہ نہیں کیونکہ اس وقت بنیادی توجہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی پر ہے۔ ان کا یہ بیان ان کے سابقہ مؤقف سے کچھ مختلف سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب اور ٹیکساس میں توانائی کے موضوع پر ہونے والی ایک ریلی میں انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو اس سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان انتخابات میں امریکی کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہونا ہے جبکہ مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر ووٹرز پہلے ہی نالاں ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے تیل کمپنیوں کے سربراہان سے رابطے کیے ہیں تاکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ انتظامیہ مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر کام کر رہی ہے، تاہم اب تک جو منصوبہ سامنے آیا ہے اس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کے لیے خطرات کے خلاف انشورنس اور ممکنہ بحری سکیورٹی فراہم کرنا شامل ہے۔
امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 27 سینٹ بڑھ کر 3.25 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جبکہ عالمی منڈی میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


Comments