وزیراعظم کا نیپرا کے بجلی سے متعلق نئے ضوابط پر نظرثانی کا حکم
- شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کردی
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی جائے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ موجودہ معاہدوں کا ہر ممکن حد تک تحفظ ہوسکے۔
جاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے خصوصی اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کا جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت کی کہ پاور ڈویژن جامع حکمتِ عملی ترتیب دے، تاکہ 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا بوجھ ان 3 کروڑ 76 لاکھ سے زائد صارفین پر نہ پڑے جو قومی گرڈ کی بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔
اس اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیرِ نجکاری محمد علی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ نیپرا نے پیر کو پروزومر ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جو موجودہ نیٹ میٹرنگ میکانزم سے نیٹ بلنگ فریم ورک کی طرف منتقلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان ضوابط کے تحت ایک پروزومر (وہ صارف جو بجلی پیدا بھی کرے اور استعمال بھی) سے مراد چھت پر سولر پینل لگانے والا گھرانہ، بائیو گیس پلانٹ چلانے والا کسان یا ونڈ ٹربائن چلانے والی صنعتی سہولت ہو سکتی ہے۔ جب تک بجلی پیدا کرنے والی سہولت ماحول دوست ہے اور اس کی گنجائش ایک میگاواٹ تک ہے وہ اس نئی توانائی کی شراکت داری میں شامل ہونے کی اہل ہے۔
تاہم پروزومر بننے کے لیے صرف جنریشن آلات نصب کرنا کافی نہیں بلکہ ایک طے شدہ منظوری کے عمل کی پیروی کرنا لازمی ہے۔
اس نئے انتظام کے تحت اگر پروزومر اپنی پیدا کردہ بجلی سے زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے تو اس کا بل مروجہ ٹیرف کے مطابق لیا جائے گا۔ اگر بجلی کی پیداوار استعمال سے زیادہ ہو تو اضافی بجلی لائسنس ہولڈر(بجلی کمپنی) کی جانب سے قومی اوسط قیمت خرید پر خریدی جائے گی۔ بلنگ کی ایڈجسٹمنٹ ماہانہ بنیادوں پر کی جائے گی اور کوئی بھی زائد رقم اگلے بلنگ سائیکل میں منتقل کر دی جائے گی یا سہ ماہی بنیادوں پر ادا کی جائے گی۔
پروزومر اور لائسنس ہولڈر کے درمیان یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے کارآمد ہوگا اور باہمی رضامندی سے اس کی تجدید کی جا سکے گی۔ کوئی بھی فریق مناسب نوٹس اور منظوری کے ساتھ معاہدہ ختم کر سکتا ہے، تاہم تمام واجب الادا حقوق اور ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔


Comments