پارلیمنٹ کو ماضی سے مؤثر ٹیکس لگانے کا مکمل اختیار حاصل ہے، ایف بی آر کی وفاقی آئینی عدالت میں دلیل
- قانون چاہے یکم جولائی کو منظور ہونے والے فنانس ایکٹ کے ذریعے ہو یا مالی سال کے کسی بھی حصے میں نافذ کیا جائے، اس کی آئینی حیثیت مسلمہ رہتی ہے، ایف بی آر
وفاقی بورڈ آف ریونیو نے منگل کے روز وفاقی آئینی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ کو کسی بھی وقت ماضی میں نافذ العمل اثرات کے ساتھ ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور یہ قانون چاہے یکم جولائی کو منظور ہونے والے فنانس ایکٹ کے ذریعے ہو یا مالی سال کے کسی بھی حصے میں نافذ کیا جائے، اس کی آئینی حیثیت مسلمہ رہتی ہے۔ عدالت میں ایف بی آر کی نمائندگی عاصمہ حامد نے کی، جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا نفاذ ریاست کا خود مختار حق ہے اور آئین میں واضح پابندی نہ ہونے کی صورت میں مقننہ کو اختیار حاصل ہے کہ قانون سازی کو مستقبل یا ماضی دونوں کے لیے مؤثر بنائے۔ ان کے مطابق درست طور پر منظور کیا گیا ٹیکس ماضی کی ٹرانزیکشنز پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس ارشد حسین پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سندھ، لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف ایف بی آر کی اپیلوں کی سماعت کی، جن میں فنانس ایکٹ 2015 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں شامل کیے گئے سیکشن 4سی کے ذریعے سپر ٹیکس کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عاصمہ حامد نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی اہلیت ثابت ہونے کے بعد اس کے قانون سازی کے طریقۂ کار کو عدالتی جانچ کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ مقننہ کسی بھی وقت قانون میں ترمیم، منسوخی یا حقوق کی واپسی کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق کسی ٹیکس کی آئینی حیثیت جانچنے کے بنیادی معیار یہ ہیں کہ آیا اسے بااختیار مقننہ نے نافذ کیا، کیا یہ ضبطی نوعیت کا ہے یا امتیازی سلوک پر مبنی ہے، جبکہ صرف منصفانہ ہونے کا معیار اکیلا کافی نہیں۔
ایف بی آر کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپر ٹیکس کا مقصد بڑے کاروباری اداروں اور زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد سے قومی مفاد میں وسائل اکٹھا کرنا ہے اور یہ کہ سیکشن 4سی واضح طور پر ایک الگ چارجنگ پروویژن ہے، اس لیے یہ ڈبل ٹیکسیشن کے زمرے میں نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس نے ڈی ریڈنگ کا اصول غلط انداز میں استعمال کرتے ہوئے مقدمے کے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور قانون کو اس حد تک بدل دیا جو آئین میں عدلیہ کے کردار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
حافظ احسان کھوکھر نے عدالت سے درخواست کی کہ سیکشن 4سی کے خلاف فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور پارلیمنٹ کی قانون سازی کے اختیار کو برقرار رکھا جائے۔ اس دوران ٹیکس دہندگان کے نمائندہ مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلیں وفاق کی بجائے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے دائر کی گئی ہیں، اس لیے کمشنر کے قانونی اختیار کا سوال بھی عدالت کے سامنے ہے۔ عدالت نے مزید سماعت 7 جنوری تک ملتوی کردی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments