معیشت اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے کلائمیٹ فنانس ضروری ہے، وزیر خزانہ
- موسمیاتی مالیات عالمی چیلنج ہے جو تیزی سے پالیسی ایجنڈے پر ابھرتا جا رہا ہے، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصول، محمد اورنگزیب نے جمعرات کو پاکستان کے اقتصادی اور ماحولیاتی مستقبل کے تحفظ کے لیے کلائمیٹ فنانس کی ضرورت پر زور دیا اور موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے کو قومی بقا کے لیے سنگین خطرات قرار دیا۔
یہ بیان انہوں نے اسلام آباد میں سسٹینیبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام“موبلائزنگ فنانس فار اے سرکلر، کلائمیٹ-ریزیلینٹ ساؤتھ ایشیا؛بلیندڈ فنانس، ریجنل فنڈز اور پرائیویٹ کیپٹل“ کے موضوع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی مالیات عالمی چیلنج ہے جو تیزی سے پالیسی ایجنڈے پر ابھرتا جا رہا ہے، اور پاکستان کو پائیدار سرمایہ کاری کے لیے اپنے مالیاتی، ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کو فوری طور پر ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت میں نمو آ رہی ہے اور پاکستان بھی اپنی معیشت مستحکم کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات نافذ کر رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت کو مثبت اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید مالیاتی آلات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پاکستان کے گرین ٹرانزیشن کو تیز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 1.3 بلین ڈالر کے موسمیاتی مالیاتی معاہدے، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 500 ملین ڈالر اور ورلڈ بینک کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ہر سال 2 بلین ڈالر حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان جلد چینی سرمایہ مارکیٹ میں پانڈا بانڈز بھی جاری کرے گا۔
اس موقع پر چیئرمین پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن اور سی ای او بینک آف پنجاب ظفر مسعود نے جنوبی ایشیا میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے علاقائی کلائمیٹ بینک کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور 27ویں آئینی ترمیم میں موسمیاتی مالیات کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔
مزید برآں، کلائمیٹ چینج کی وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار یونس نے کہا کہ وسائل کی کمی کے دور میں دائرہ کار کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی نقطہ نظر اختیار کرنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہر ماحولیاتی اقتصادیات ڈاکٹر پوشپم کمار نے مخلوط مالیات کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ قومی صلاحیت کو بڑھانا ضروری ہے تاکہ یہ سرمایہ کاری مؤثر طریقے سے حاصل کی جا سکے۔
اس اجلاس میں ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ ”بیانڈ پلیجز: انلاکنگ پاکستان’ز ڈومیسٹک کلائمیٹ فنانس پوٹینشل“ بھی جاری کی گئی، جو مقامی اور علاقائی وسائل کو متحرک کر کے پاکستان کی موسمیاتی مزاحمتی معیشت کے قیام کے لیے رہنما خطوط فراہم کرتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.