امریکا کی جانب سے روسی کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ۔
- صبح 10:51 بجے (ای ڈی ٹی) کے مطابق برینٹ فیوچرز کی قیمت 2.91 ڈالر (4.7 فیصد) بڑھ کر 65.50 ڈالر فی بیرل ہو گئی
امریکا کی جانب سے روس کی بڑی توانائی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل پر یوکرین جنگ کے تناظر میں پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد جمعرات کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق روس 2024 میں امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا، اور پابندیوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی میں کمی کا خدشہ ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 2.91 ڈالر (4.7 فیصد) بڑھ کر 65.50 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل 2.89 ڈالر (4.9 فیصد) اضافے کے ساتھ 61.39 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ برینٹ کی قیمت 8 اکتوبر کے بعد، اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 9 اکتوبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ امریکی ڈیزل فیوچرز میں بھی 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ریفائنری منافع کے اشاریے (کریک اسپریڈ) فروری 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
تجارتی ذرائع کے مطابق امریکی پابندیوں کے بعد چینی سرکاری آئل کمپنیوں نے روسی کمپنیوں روزنیفٹ اور لوک آئل سے سمندری راستے سے خام تیل کی خریداری معطل کر دی ہے، جس سے عالمی قیمتوں کو مزید سہارا ملا۔
تاہم بعد ازاں کویتی وزیرِ تیل کے اس بیان کے بعد قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی کہ اوپیک گروپ منڈی میں کسی ممکنہ کمی کو پورا کرنے کے لیے پیداوار میں کٹوتیوں کو جزوی طور پر واپس لینے کے لیے تیار ہے۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولی ہینسن کے مطابق، امریکی پابندیوں کے بعد چین اور بھارت کی ریفائنریز، جو روسی تیل کی بڑی خریدار ہیں، کو مغربی بینکنگ نظام سے محرومی سے بچنے کے لیے متبادل سپلائرز تلاش کرنا ہوں گے۔
امریکا نے مزید کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ماسکو سے فوری جنگ بندی پر رضامندی کی اپیل بھی کی ہے۔
مزید پابندیاں
برطانیہ نے گزشتہ ہفتے روزنیفٹ اور لوک آئل پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ یورپی یونین نے روس کے خلاف انیسویں پابندیوں کا پیکیج منظور کر لیا ہے، جس میں روسی مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے۔
یورپی یونین کے آفیشل جرنل کے مطابق، روس پر نئی پابندیوں کی فہرست میں چین کی دو ریفائنریز، جن کی مشترکہ یومیہ گنجائش 6 لاکھ بیرل ہے، کے ساتھ ساتھ چائنا آئل ہانگ کانگ (پیٹروچائنا کی تجارتی شاخ) کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنوو کا کہنا ہے کہ تیل کی منڈیوں پر ان پابندیوں کا اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ بھارت کا ردِعمل کیا ہوتا ہے اور روس متبادل خریدار تلاش کر پاتا ہے یا نہیں۔
ماسکو کی یوکرین جنگ کے بعد، بھارت رعایتی نرخوں پر روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا تھا۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق نئی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز روسی تیل کی درآمد میں نمایاں کمی لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پرائیویٹ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز ،جو روسی تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار ہے — روسی خام تیل کی درآمد کم کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تاہم مارکیٹ میں اب بھی یہ شکوک موجود ہیں کہ امریکی پابندیاں واقعی تیل کی عالمی رسد اور طلب میں بنیادی تبدیلی لا سکیں گی۔
رِسٹَیڈ انرجی کے تجزیہ کار کلاڈیو گالیمبرٹی کے مطابق ’’گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں روس پر عائد تقریباً تمام پابندیاں نہ تو اس کی تیل کی پیداوار کم کر سکیں، نہ ہی آمدنی میں کوئی خاطر خواہ کمی لائیں۔‘‘
جمعرات کو اوپیک پلس ممالک کی پیداوار میں اضافے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ محدود رہا۔
یو بی ایس کے مطابق، برینٹ تیل کی قیمت 60 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔اوپیک پلس میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی ممالک، بشمول روس، شامل ہیں۔
طلب کے محاذ پر امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ریفائنری سرگرمیوں اور طلب میں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب چینی نائب وزیرِ اعظم ہی لی فینگ جمعہ سے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقاتیں کریں گے، کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں اہم سربراہی اجلاس سے قبل کشیدگی میں حالیہ اضافے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
قبل ازیں بھارت کی ریاستی ریفائنریز نے کہا کہ وہ روسی تیل کی خریداری پر نظرثانی کر رہی ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی سپلائی براہِ راست روزنیفٹ اور لوک اوئل سے نہ آئے۔
امریکہ کی پابندیوں کے اعلان کے فوراً بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی فیوچرز میں 2 ڈالر سے زائد اضافہ ہوا، جس میں امریکی اسٹاک کی اچانک کمی بھی معاون رہی۔
تاہم، مارکیٹ میں یہ شکوک موجود ہیں کہ آیا امریکی پابندیاں بنیادی طور پر سپلائی میں تبدیلی لائیں گی یا نہیں، جس کی وجہ سے تیل کے اضافے میں حد بندی رہی۔ رائسٹڈ انرجی کے گلوبل مارکیٹ ڈائریکٹر کلاؤڈیو گلیمبرٹی کے مطابق یہ قیمتوں کا اضافہ زیادہ تر مارکیٹ کا فوری ردعمل ہے نہ کہ ساختی تبدیلی۔
قریب مدتی میں اوپیک پلس کی سپلائی میں اضافے، چین کی اسٹاک پائلنگ، اور یوکرین و مشرق وسطیٰ کی جنگوں کو قیمتوں کے اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


Comments
Comments are closed.