امریکا کی وینزویلا میں انتخابات کی راہ ہموار کرنے کیلئے اصلاحات پر بات چیت
- دونوں رہنماؤں نے ایسی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جو ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور قابل اعتبار انتخابات کی بنیاد فراہم کرسکیں، امریکی محکمہ خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو وینزویلا کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے وینزویلا کے وزیر خارجہ اولیور بلانکو سے محکمہ خارجہ میں ملاقات کی، جس میں وینزویلا کی قیادت میں مفاہمتی مذاکرات میں پیش رفت اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بات چیت ہوئی۔
محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایسی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جو ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور قابل اعتبار انتخابات کی بنیاد فراہم کرسکیں۔
مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وینزویلا کا انتخابی نظام انتخابات میں دھاندلی کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا شفاف انتخابات کے انعقاد سے پہلے اس نظام کو فوری طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔
جنوری کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں معزول صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں انہیں مقدمے کا سامنا ہے۔
اس کے بعد ٹرمپ نے مادورو کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کی حمایت کی، جنہوں نے عبوری صدر کا منصب سنبھالا اور امریکی نگرانی میں حکومت چلانا شروع کی۔
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ واشنگٹن نے ملک میں اگلے سال صدارتی انتخابات کرانے کی تجویز دی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی وینزویلا کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں توانائی کی پیداوار بڑھانے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے پر گفتگو ہوئی۔
ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے جنوری میں کہا تھا کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی وینزویلا کے تیل سے امریکی مفادات وابستہ کرنے کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔