✕
مارکٹس

اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، انڈیکس تقریباً 600 پوائنٹس گر گیا

  • بینچ مارک انڈیکس 597.13 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کمی کے بعد 165,812.12 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر پیر کو فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 600 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔

صبح 10 بج کر 20 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 597.13 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کمی کے بعد 165,812.12 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص میں ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، اے آر ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل پانچ ہفتوں سے جاری گراوٹ کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا، جب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 4,034.37 پوائنٹس یا 2.5 فیصد اضافے کے بعد 166,409.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔ علاقائی امن مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی اور مارکیٹ کی طویل گراوٹ کا رجحان تبدیل ہوگیا۔

عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی حصص بازاروں میں استحکام دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ دن کے اختتام پر ایپل کے مالیاتی نتائج مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بھاری اخراجات سے متعلق خدشات میں کچھ کمی لائیں گے۔ دوسری جانب ایرانی اور قطری ثالثوں کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

اس مثبت رجحان کے باعث ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ نیس ڈیک کے فیوچرز میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیس ڈیک اکتوبر کے دوران تقریباً 7 فیصد گر گیا تھا، جو اپریل 2025 میں ٹیرف سے متعلق شدید مندی کے بعد اس کی بدترین ماہانہ کارکردگی تھی۔

گزشتہ ہفتے منفی نقد بہاؤ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بھاری حجم سے متعلق خدشات کے باعث کمپنیوں کے ڈیفالٹ کے خلاف مالی تحفظ کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد مارکیٹ کو مثبت خبروں کی شدید ضرورت ہے۔

جمعے کو انٹیل کے حصص میں تقریباً 29 فیصد کی شدید گراوٹ نے اے ایم ڈی سمیت دیگر چِپ ساز کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکا میں وسط مدتی انتخابات بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں مزید سیاسی رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے رقوم نکالے جانے کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کی بے چینی میں اضافہ کیا۔ ہیکرز کی جانب سے گزشتہ ہفتے پلیٹ فارم سے اربوں ڈالر چرانے کے بعد بائنانس اتوار کو دوبارہ فعال ہوا تھا۔

ایشیائی مارکیٹوں میں جاپان کا نکی انڈیکس 0.1 فیصد نیچے رہا، تاہم اس نے ابتدائی کاروبار کی کم ترین سطح سے کچھ بہتری دکھائی۔ جنوبی کوریا کا انڈیکس 0.8 فیصد بڑھ گیا، جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 16 فیصد کمی ہوئی تھی۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل وسیع تر انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوگیا۔

یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔