عالمی بینک کی پاکستان میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد کم رہنے کی پیشگوئی
- رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے توانائی کی عالمی فراہمی کو تاریخی دھچکا پہنچایا ہے
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوار مالی سال 2026-27 کے دوران 6 فیصد کم ہوسکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی کپاس کی پیداوار میں 3 فیصد کمی متوقع ہے۔
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ ’’کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک‘‘ کے مطابق، امریکی محکمہ زراعت کے تخمینوں کی بنیاد پر چین میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد اور امریکا میں 3 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس برازیل اور بھارت میں پیداوار تقریباً ایک، ایک فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے توانائی کی عالمی فراہمی کو تاریخی دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بحیرہ اسود کے راستے اناج اور تیل دار بیجوں کی ترسیل متاثر کررہی ہے۔ اس کے علاوہ روس میں ڈیزل سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بھی دباؤ کا شکار ہے۔
عالمی بینک کے مطابق، شدید موسمی رجحان ال نینو زرعی اجناس کی پیداوار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ قابل تجدید توانائی اور ٹیکنالوجی سے متعلق سرمایہ کاری کی طلب کے باعث بنیادی دھاتوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتیں 2026 میں مجموعی طور پر 23 فیصد بڑھیں گی، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 91 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔ خوراک کی اجناس کی قیمتیں بھی 10 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔
تاہم، 2027 میں مجموعی اجناس کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی متوقع ہے، جبکہ برینٹ خام تیل 79 ڈالر فی بیرل تک آسکتا ہے۔ اس کے باوجود خوراک کی قیمتوں میں مزید 7 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے، روسی تیل کی پیداوار بحال نہ ہونے یا ال نینو کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں توانائی اور خوراک مہنگی رہ سکتی ہے، جس سے عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026