روس اور چین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے پر مذاکرات کررہا ہوں، ٹرمپ
- جوہری ہتھیاروں کی موجودگی افسوس ناک ہے اور وہ ممکنہ طور پر دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہیں گے، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ واشنگٹن جوہری ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک امریکا، روس اور چین کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین آئندہ پانچ برس کے دوران جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں امریکا کے برابر آ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی افسوس ناک ہے اور وہ ممکنہ طور پر دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہیں گے۔ ان کے مطابق امریکا اس مقصد کے لیے روس اور چین سے بات چیت کر رہا ہے۔
نیوزمیکس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے معاملے پر گفتگو کی ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق روس کے پاس ذخیرہ شدہ جوہری وارہیڈز کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ امریکا دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے۔ تاہم فعال طور پر تعینات جوہری وارہیڈز کی تعداد کے لحاظ سے امریکا روس سے آگے ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات رواں سال کے آغاز میں اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (نیو اسٹارٹ) کی مدت ختم ہونے کے چند ماہ بعد سامنے آئے ہیں۔ 2010 میں طے پانے والے اس معاہدے میں صرف ایک مرتبہ توسیع کی گنجائش تھی، جس کے تحت سابق امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس کی مدت پانچ سال بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ معاہدے کی حدود میں مزید توسیع کے لیے انتظامی سطح پر رضاکارانہ فیصلہ درکار ہوگا۔