✕
ٹیکنالوجی

پاکستان کی کیش لیس معیشت اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی برآمدات بڑھانے کے لیے علی بابا سے تعاون کی کوشش

  • ڈیجیٹل ادائیگیوں، نقدی کے بغیر معیشت اور سماجی تحفظ کی رقوم و ہدف والی سبسڈی کی شفاف فراہمی پر تبادلۂ خیال
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ انہوں نے بنکاک میں علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس کی قیادت سے ملاقات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں ای کامرس پر ٹیکسوں کو معقول بنانے اور پاکستان سنگل ونڈو پلیٹ فارم کو تیز رفتاری سے فعال کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026ء کے موقع پر علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس (اے آئی ڈی سی) کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے تعاون کا جائزہ لیا گیا۔

ملاقات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، کیش لیس معیشت اور سماجی تحفظ کی رقوم اور ہدفی سبسڈی کی شفاف فراہمی کے امور زیرِ بحث آئے۔

وزیر خزانہ نے دراز اور علی بابا ڈاٹ کام کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، مقامی برانڈز اور برآمدات کے فروغ کے لیے علی بابا کی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے ای کامرس پر ٹیکسوں کو معقول بنانے کے لیے تجاویز بھی طلب کیں، تاکہ ٹیکس نظام میں انصاف کے ساتھ زیادہ سے زیادہ افراد اور کاروباروں کو شامل کیا جاسکے۔

دونوں فریقوں نے پاکستان سنگل ونڈو کے ای کامرس پلیٹ فارم کو تیز رفتاری سے فعال کرنے اور سرحد پار ادائیگیوں اور برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن کی نگرانی بہتر بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ کلاؤڈ انفرااسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ٹیکس انتظامیہ کے شعبوں میں تعاون کا جائزہ بھی لیا گیا، جس میں مربوط ڈیٹا سسٹمز، سائبر سکیورٹی اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان پوسٹ کے چھانٹی کے نظام کو جدید بنانے اور علی بابا کے ریٹیل نیٹ ورک کے ذریعے چین کو زرعی برآمدات بڑھانے کے امکانات بھی زیرِ غور آئے۔

ایک الگ ملاقات میں وزیر خزانہ نے انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ادیب وائی الامہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی معاشی پیش رفت، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے بارے میں آگاہ کیا۔

دونوں فریقوں نے مالی معاونت کی باقی ماندہ قسط کا جائزہ لیا اور بہتر مارکیٹ حالات کے مطابق قرض لینے کی لاگت میں ردوبدل پر بات چیت کی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تکنیکی ٹیمیں قیمتوں اور مالی معاونت کے حجم میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیں گی، تاکہ ایسا حل تلاش کیا جاسکے جو دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

وزیر خزانہ نے مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کی مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

مذاکرات میں یورپی یونین کو ٹیکسٹائل برآمدات میں معاونت کے لیے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ متعارف کرانے اور آسیان ممالک کے ساتھ تجارت آسان بنانے کے لیے سنگل ونڈو نظاموں کو منسلک کرنے کے امور بھی شامل تھے۔ دونوں فریقوں نے طویل مدتی شراکت داری اور پاکستان کی برآمدات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد سے ملاقات میں وزیر خزانہ نے قرض لینے والے ممالک کے فورم (بوروورز فورم) کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس ضمن میں رکن ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے، انتظامی تسلسل اور مؤثر ورچوئل سیکریٹریٹ کے قیام پر بات چیت ہوئی۔

محمد اورنگزیب نے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ) کے ممالک کی آواز مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو زیادہ جواب دہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں فریقوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز)، غربت میں کمی، سماجی تحفظ اور باعزت روزگار کے لیے مناسب مالی وسائل کی فراہمی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت کی کمی، فنڈز تک آسان رسائی اور قابلِ عمل مالی منصوبے تیار کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے امور بھی زیرِ بحث آئے۔

وزیر خزانہ نے شرحِ مبادلہ کے خطرات کم کرنے کے لیے مقامی کرنسی میں مالی معاونت کی اہمیت اجاگر کی اور ملکی سطح پر جواب دہ پالیسی سازی پر زور دیا۔ انہوں نے حالیہ امریکا ایران بحران میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہنے پر آمنہ جے محمد کا شکریہ بھی ادا کیا۔