ٹرمپ کا یوکرین میں نئی قیادت کا مطالبہ، روسی تیل تنصیبات پر حملے روکنے پر زور
- روسی ڈیزل کی برآمدات پر امریکی پابندیاں نرم کرنے سے ماسکو کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے،زیلنسکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یوکرین کی جانب سے روسی تیل تنصیبات پر حملوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا یہ بیان روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس پر زیلنسکی نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ نیا صدر منتخب کرے۔ ان کے مطابق روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے حملوں سے عالمی ڈیزل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے کسانوں اور زرعی شعبے کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب زیلنسکی نے کہا کہ روسی ڈیزل کی برآمدات پر امریکی پابندیاں نرم کرنے سے ماسکو کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ روس نے پابندیوں میں نرمی کے بعد یوکرین کے شہر زاپوریزیا میں رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرائے، جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں میں ایک چھ سالہ بچی بھی ہلاک ہوئی۔ رواں ہفتے یوکرین میں روسی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ادھر برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے زیلنسکی سے گفتگو کے دوران روس پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ امریکی قانون سازوں نے بھی روسی ڈیزل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر تنقید کی ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ فوری طور پر امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات کم ہیں۔ ٹرمپ نے زیلنسکی پر امن معاہدہ کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے روسی توانائی تنصیبات پر یوکرینی حملے فوری روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔