✕
کاروبار اور معیشت

جرمنی کا جی ایس پی پلس سے متعلق اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد پر زور

  • فاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل کے درمیان ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

جرمنی نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس ٹریڈ اسکیم سے وابستہ پاکستان کے قانونی اصلاحات کے مؤثر نفاذ اور اسلام آباد کی جانب سے اگلی درخواست کی تیاری کے دوران قابلِ پیمائش نتائج اور عملی بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ پیش رفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں جرمنی کی سفیر انا لیپل کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی جنہوں نے منگل کو وفاقی وزیر تجارت سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران جام کمال نے پاکستان کے ساتھ جرمنی کے دیرینہ اقتصادی تعاون اور یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے حوالے سے اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور وفاقی وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

سفیر نے جی ایس پی پلس سے متعلق شعبوں میں پاکستان کی قانون سازی میں پیش رفت اور مثبت اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں اصلاحات اور مضبوط ادارہ جاتی نظام کیلئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے قانون سازی کے اقدامات کو مؤثر عملدرآمد، قابلِ پیمائش نتائج اور شہریوں کے لیے ٹھوس بہتری میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

سفیر نے جی ایس پی پلس کی آئندہ درخواست کے حوالے سے پاکستان کے منظم طریقہ کار کا خیرمقدم کیا اور متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل رابطہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل روابط، شفاف رپورٹنگ اور بروقت پیشرفت سے پاکستان کے بین الاقوامی شراکت داروں کا اعتماد برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

سفیر لیپل نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی اور دیگر شعبوں میں مواقع کو بھی اجاگر کیا اور پاکستان و جرمنی کے نجی شعبوں کے درمیان مزید مضبوط روابط کی حوصلہ افزائی کی۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم کے تجارت و صنعت کے رابطہ کار رانا احسان افضل نے جرمن سفیر کے سامنے پاکستان کے باسمتی چاول کے جی آئی کا معاملہ اٹھایا۔

انہوں نے سفیر کو یورپی کمیشن کے سامنے بھارت کی جی آئی درخواست کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف اور باسمتی چاول کے تحفظ کے لیے پاکستان کی اپنی درخواست سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے مؤقف کی بنیاد بننے والے قانونی، تاریخی اور تجارتی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی باسمتی چاول کے کاشتکاروں، پروڈیوسرز اور برآمد کنندگان کے جائز مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔

سفیر لیپل نے مناسب قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے پروڈیوسرز، کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے مفادات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جی آئی کا مؤثر تحفظ عالمی منڈیوں میں مصنوعات کی شناخت مضبوط بنانے، دیہی معیشت اور روزگار کے ذرائع کو سہارا دینے اور زرعی برآمدات کی قدر بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے جرمن سفیر اور جرمن کمپنیوں کو نومبر 2026 میں کراچی میں ہونے والی آئندہ فوڈ ایگ نمائش میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، مویشیوں کی افزائش، ٹیسٹنگ سہولتوں اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ جرمن کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے پاکستان کو زرعی پیداوار میں بہتری، معیار اور برآمدی معیارات کو مضبوط بنانے اور برآمد کے لیے زیادہ اضافی پیداوار حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوڈ ایگ جرمن کاروباری اداروں کو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ براہِ راست روابط قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور زراعت و غذائی ویلیو چینز میں شراکت داریاں قائم کرنے کے لیے ایک مفید پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

سفیر لیپل نے دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ ایگ میں جرمنی کی شرکت دوطرفہ روابط کو عملی کاروباری اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیار کی یقین دہانی، فنی تربیت، تحقیق و ترقی اور پائیدار پیداواری طریقوں میں مواقع کو اجاگر کیا۔

جرمن فریق نے پاکستانی کاروباری شخصیات کے ایک وفد کی جرمنی میں ہونے والی مویشی پالنے کے شعبے کی ایک بڑی تجارتی نمائش میں شرکت کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔ سفیر لیپل نے کہا کہ ایسے تبادلے معلومات اور تجربات کی منتقلی، تجارتی روابط کے فروغ اور لائیو اسٹاک اور متعلقہ شعبوں میں نئے مواقع کی نشاندہی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔