✕

آئین اور آئی ایم ایف کی شرائط

  • قرض پروگراموں کے جائزوں کو اس آئینی معاہدے کی شرائط طے کرنے کی اجازت دینا ایسی سیاسی ناکامی ہوگی جس کی تلافی کوئی مالی قسط نہیں کرسکے گی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی سیکریٹری خزانہ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کے لیے 37 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت 174 قانون سازی کی ترامیم چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی منظوری کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ دونوں بیانات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

اگر کسی قانون ساز ادارے کے سامنے ایسی ترامیم کی فہرست پیش کی جائے جو کہیں اور طے کی گئی ہوں اور جن کی منظوری کے لیے قرض کی قسط سے جڑی مدت مقرر ہو تو ارکان کے پاس باضابطہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار ضرور ہوتا ہے لیکن غور و خوض کی عملی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔

یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ ترامیم کیا ہیں؟ ان میں سے کون سی پاکستان کی جانب سے تجویز کی گئی تھیں؟ اور کون سی ادائیگیوں کے توازن کے پروگرام کے لیے ضروری ہیں؟ کسی بھی اقدام کو اصلاحات قرار دے کر منظور کرنے سے پہلے ان کا متن اور وجوہات عوام کے سامنے ہونی چاہئیں۔

رپورٹس کے مطابق ترامیم میں ٹیکس نظام، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، خودمختار دولت فنڈ، چینی کی پالیسی اور اسلامی بینکاری سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

صوبوں کے ساتھ قومی مالیاتی معاہدہ بھی پروگرام کی شرائط میں شامل ہے۔ کمیٹی نے قابلِ پیمائش نتائج، اخراجات اور مدت کی تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ صوبائی فاضل رقوم، نجکاری سے حاصل اثاثوں اور صارفین پر پڑنے والے بوجھ کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو وعدے کیے جانے سے قبل پارلیمنٹ کو اٹھانے چاہئیں تھے۔

174 ترامیم کی تعداد کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام آئینی ترامیم ہیں۔ حکومت کو شق کے حساب سے تفصیلات شائع کرنی چاہئیں، تاکہ عام قانون سازی میں ہونے والی تبدیلیوں کو وفاقی آئینی ڈھانچے میں ترمیم کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے۔

یہ آئینی ڈھانچہ 1973 کا آئین ہے۔ ملک کی تقسیم کے بعد منظور ہونے والا یہ آئین آج بھی اس امر پر ہمارا متفقہ قومی معاہدہ ہے کہ مختلف اکائیاں ایک وفاق کے اندر کس طرح مل کر رہ سکتی ہیں۔ سینیٹ، صوبائی اسمبلیاں، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی)، قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) جیسے ادارے اس لیے تشکیل دیے گئے کہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکے۔

پارلیمانی اتفاقِ رائے سے 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس وفاقی معاہدے کی تجدید کی گئی۔ آئین کا آرٹیکل 239 آئینی ترمیم کے لیے سخت طریقہ کار وضع کرتا ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔

کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظوری بھی ضروری ہے۔ یہ حفاظتی انتظامات محض طریقہ کار کی رکاوٹ نہیں بلکہ رضامندی کے اصول کی ضمانت ہیں۔ کوئی مالیاتی ادارہ یا وفاقی مذاکراتی ٹیم آئینی عمل کی جگہ اپنی مقرر کردہ مدت مسلط نہیں کرسکتی۔

قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) بھی سہولت کے مطابق کیے جانے والے حساب کتاب کا ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ محصولات کا بہت بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہوجاتا ہے جبکہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات وفاق کے ذمے رہتے ہیں۔

صوبے سوال کرتے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد وفاقی اخراجات میں کمی کیوں نہیں آئی، وفاقی ادارے قابلِ تقسیم محاصل کے علاوہ ٹیکس اور لیویز اپنے پاس کیوں رکھتے ہیں اور اضلاع کو اتنے کم اختیارات اور وسائل کیوں ملتے ہیں۔

یہ حقیقی سوالات ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 160(3A) کو، جو بعد کے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے مجموعی حصے میں کمی سے تحفظ فراہم کرتا ہے، استحکام کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا ان سوالات کا جواب نہیں۔

عالمی بینک کی حالیہ مالیاتی وفاقیت سے متعلق تحقیق بھی وفاق کی ایک بنیادی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کو زیادہ رقوم کی منتقلی کے باوجود وفاقی اخراجات میں کمی نہیں آئی جبکہ محصولات کی وصولی بھی جمود کا شکار رہی۔

تحقیق میں صوبوں کی کمزور ٹیکس وصولی، اخراجات میں تنخواہوں اور پنشن کا زیادہ حصہ اور بلدیاتی حکومتوں کو نظر انداز کیے جانے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

عالمی بینک کی شائع کردہ رپورٹ موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر اصلاحات کے مختلف راستے پیش کرتی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ یہ نقطۂ آغاز اس سے زیادہ مفید ہے کہ عالمی بینک کی تحقیق کو صوبوں کی مالی گنجائش ختم کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جائے۔ مالیاتی مسائل کی تشخیص سے آئینی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

صوبائی حکومتیں بھی خود کو خودمختاری کے پیچھے نہیں چھپا سکتیں۔ انہیں زیادہ زرعی آمدنی پر مؤثر ٹیکس عائد کرنا ہوگا، جائیداد کے ریکارڈ کو قابلِ اعتماد بنانا ہوگا، عوامی خدمات کے نتائج شائع کرنا اور نئے وسائل کو صرف انتظامی اخراجات میں ضم کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، پانی اور صفائی کی سہولیات صرف بجٹ دستاویزات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ عوام تک پہنچنی چاہئیں۔

آئین کا آرٹیکل 140 اے سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریوں کے ساتھ منتخب بلدیاتی حکومتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز، قابلِ پیش گوئی مالی منتقلی اور اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی بامعنی آمدنی کے ذریعے اس آئینی تقاضے کو عملی شکل دینا ضروری ہے۔ صوبائی کارکردگی کی کمزوری کا حل عوامی احتساب اور مزید اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، نہ کہ اسلام آباد میں مزید مرکزیت قائم کرنا۔

اس معاملے میں شفاف حساب کتاب کا سوال بھی اہم ہے۔ جب پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس صفر رکھا جاتا ہے اور پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا جاتا ہے تو وہ آمدنی جو قابلِ تقسیم سیلز ٹیکس پول میں شامل ہونی تھی، اس کی جگہ ایسی وصولی لے لیتی ہے جو وفاق کے پاس رہتی ہے۔ یوں قابلِ تقسیم پول میں صوبوں کا محفوظ فیصد برقرار رہ سکتا ہے، لیکن خود پول میں وسائل کم ہوجاتے ہیں۔

ہم بارہا یہ مؤقف پیش کرچکے ہیں کہ اس فیصلے کے معاشی اثرات اور آئینی نتائج ہر وفاقی بجٹ کے ساتھ واضح کیے جانے چاہئیں۔ آئی ایم ایف کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے صوبوں سے حاصل کیے گئے نقد سرپلس کو اس وقت تک پائیدار حل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اخراجات اور محصولات کی بنیادی تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہو۔

وزارت خزانہ اب آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل حکومتی مشق قرار دیتی ہے اور یہ تسلیم کرتی ہے کہ زرعی ٹیکس کا معاملہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزارت کی اپنی وضاحت آئینی نظم و ضبط کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ سیکریٹری خزانہ مذاکرات میں رابطہ کاری کرسکتے ہیں لیکن وہ صوبائی اسمبلی کے اختیار سے دستبردار ہونے کا معاہدہ نہیں کرسکتے۔

صوبائی حکومت مالیاتی معاہدے پر بات چیت کرسکتی ہے، لیکن کسی پوشیدہ متن کے ذریعے اپنی اسمبلی کو پابند نہیں کرسکتی۔ پارلیمنٹ عام قانون میں ترمیم کرسکتی ہے، لیکن اسے مالیاتی بل میں تکنیکی شرط کا روپ دے کر آئینی تبدیلی نافذ کرنے کا اختیار نہیں۔

پاکستان کے مسائل کا تمام تر الزام بیرونی قرض دہندگان پر بھی نہیں ڈالا جاسکتا۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے شارٹ کٹ اختیار کیے، آمدنی کے بجائے لین دین پر ٹیکس لگایا، بااثر شعبوں کو مراعات دیں، جاری اخراجات کے لیے قرض لیا اور منتقل کیے گئے اختیارات بھی اپنے پاس رکھے۔ انہی فیصلوں نے حکومتوں کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر مجبور کیا ہے۔

زرعی آمدنی پر مؤثر ٹیکس نافذ کرنے یا فعال بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے میں ناکامی کسی قرض دہندہ نے پیدا نہیں کی۔ منتخب نمائندے جب اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہوتے ہیں تو بیرونی اثر و رسوخ بڑھتا ہے۔ حل یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری دوبارہ سنبھالی جائے، نہ کہ یہ تاثر دیا جائے کہ معیشت کو مالی معاونت کی ضرورت ہی نہیں۔

آئی ایم ایف نے بھی رواں ماہ کہا ہے کہ اس کا نیا طریقہ کار کسی ملک کی استعداد اور ملکی ملکیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم مگر زیادہ گہری اصلاحات کو ترجیح دے گا۔ سوال یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق 174 قانون سازی کی تبدیلیوں کا مطالبہ اس معیار پر کیسے پورا اترتا ہے؟

حکومت اور آئی ایم ایف کو لازمی بنیادی اہداف، مذاکراتی تجاویز اور ملکی اقدامات میں فرق واضح کرنا چاہیے۔ ہر اقدام کے معاشی مقصد، نفاذ کی لاگت اور سماجی اثرات کی وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر کوئی اقدام وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کے توازن کو تبدیل کرتا ہے تو آئین کے مطابق اس کے لیے مشترکہ مفادات کونسل، قومی مالیاتی کمیشن یا پارلیمنٹ مناسب فورم ہیں۔ اسٹاف لیول معاہدہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

ابتدا مکمل ترامیم کی فہرست، قومی مالیاتی معاہدے، تمام متعلقہ یادداشتوں اور ان سے وابستہ اثرات کے جائزوں کو شائع کرنے سے ہونی چاہیے۔ قائمہ کمیٹیوں کو صوبائی وزرائے خزانہ، آزاد ماہرینِ معیشت، ٹیکس ماہرین، کاروباری نمائندوں، محنت کشوں اور بلدیاتی نمائندوں کو طلب کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

ہر مجوزہ قانون کو متعلقہ قانون ساز ادارے کے سامنے الگ اور واضح مسودے کی صورت میں پیش کیا جائے۔ مجوزہ صوبائی سرپلس کے ساتھ وہ وفاقی اخراجات میں کمی اور محصولات کے اقدامات بھی شائع کیے جائیں جن پر یہ سرپلس منحصر ہیں۔

آئین کے تحت آرٹیکل 160(3 بی ) پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹس پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کی جانی چاہئیں۔

اس کے بعد حقیقی این ایف سی عمل شروع کیا جائے۔ اس میں صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے، مالی ضروریات، صوبائی ٹیکس وصولی اور عوامی خدمات کی فراہمی کا ازسرنو جائزہ لیا جاسکتا ہے، مگر صوبوں کے مجموعی حصے کے لیے آئینی تحفظ برقرار رہنا چاہیے۔ صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں میں کام کرنے والی وفاقی وزارتوں کا آڈٹ کرکے ان کے کردار کو مناسب بنایا جائے۔

سیلز ٹیکس اور ٹیکس انتظامیہ کو باہمی رضامندی سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے، لیکن اس عمل میں صوبوں کے ٹیکس لگانے کے اختیارات ختم نہیں ہونے چاہئیں۔ قومی اقتصادی کونسل اور مشترکہ مفادات کونسل کو فعال فورمز کے طور پر بحال کیا جائے۔

منتخب شہری اور ضلعی حکومتوں کو خدمات کی فراہمی اور عوام کے سامنے جواب دہی کے لیے مناسب وسائل اور اختیارات دیے جائیں۔ ایسی اصلاحات کے لیے سیاسی عزم درکار ہے کیونکہ ان سے ہر سطح پر موجود سرپرستی کے نظام کو چیلنج کرنا پڑے گا۔

پاکستان کو سرمایہ کاری، بیرونی مالی استحکام اور ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو عوامی خدمات کے اخراجات پورے کرسکے۔ قرض دہندہ مالی معاونت اور تکنیکی شواہد فراہم کرسکتا ہے، لیکن وہ اس رضامندی کی جگہ نہیں لے سکتا جس پر وفاقی نظام قائم رہتا ہے۔

1973 کا آئین ملک کو متحد رکھنے کے لیے اب بھی قابلِ اعتماد آئینی فریم ورک ہے۔ اگر ضرورت ہو تو اسے کھلی عوامی بحث اور منتخب نمائندوں اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے بعد تبدیل کیا جائے۔

قرض پروگراموں کے جائزوں کو اس آئینی معاہدے کی شرائط طے کرنے کی اجازت دینا ایسی سیاسی ناکامی ہوگی جس کی تلافی کوئی مالی قسط نہیں کرسکے گی۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026