✕
دنیا

ایران کو جوہری رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں ریلیف کی پیشکش نہیں کی، ٹرمپ

ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے، امریکی عہدیدار
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ جوہری رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثے جاری کرنے کی پیشکش کی تردید کردی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ غلط ہے، میں نے انہیں کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ وہ ایکسِیوس کی اس رپورٹ پر ردعمل دے رہے تھے جس میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے پر آمادہ تھے۔ ایکسِیوس کی رپورٹ میں امریکی حکام کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

سی این این نے بھی ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے۔

ٹرمپ نے 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ کے حوالے سے اپنے اہداف اور ٹائم لائنز میں تبدیلی کی ہے۔ جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے ہوا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کیے۔

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

دونوں ممالک کے حکام کے مطابق جنگ کے خاتمے کی نئی کوششوں کے تحت امریکی اور ایرانی حکام نے پیر کو ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔

ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیت کمزور کرنے کو جنگ کے مقاصد میں شامل کیا ہے۔ ایران، جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، انہیں حاصل کرنے کی کوشش کی تردید کرتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے فریق کی حیثیت سے اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی تیار کرنے کا حق حاصل ہے۔