✕
کاروبار اور معیشت

پی آئی اے کا مالدیپ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

  • پی آئی اے اپنے فضائی بیڑے میں توسیع اور جدید بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے فضائی بیڑے میں نئے طیارے شامل ہونے کے بعد مالدیپ کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ دونوں ممالک سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

پی آئی اے کے بیان کے مطابق چیف ایگزیکٹو ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات نے ایئرلائن کے ہیڈ آفس میں مالدیپ کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عبدالرّحیم عبداللہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔

بیان کے مطابق عامر حیات نے کہا کہ پی آئی اے کے بیڑے میں طیارے شامل ہوتے ہی مالدیپ کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کردی جائیں گی۔

مالدیپی وفد سرکاری مہمان کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے، جس میں مالدیپ کے ہائی کمشنر، سیکنڈ سیکریٹری، ڈپٹی لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے شروع کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پی آئی اے کے مطابق اس اقدام سے سیاحت، تجارت اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

عبدالرّحیم عبداللہ نے کہا کہ فضائی رابطوں میں بہتری سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت، سیاحت اور عوامی روابط میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہِ راست پروازوں کا آغاز دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

پی آئی اے اپنے فضائی بیڑے میں توسیع اور اسے جدید بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

اس سے قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے پی آئی اے کے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ملاقات میں وزیر خزانہ نے نئے طیاروں کے حصول کے لیے نظرثانی شدہ تجویز پی آئی اے کو فراہم کرنے کی بوئنگ کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ طیاروں کی جلد فراہمی اور عبوری لیزنگ کے انتظامات کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے پی آئی اے کی نجکاری اور بڑے ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے فضائی تحفظ کی صلاحیت بڑھانے، ریگولیٹری تعاون اور امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی میں بوئنگ کے تعاون کو سراہا اور پاکستان میں ہوا بازی کے شعبے میں طویل مدتی ترقی کے وسیع امکانات پر زور دیا۔