✕
ٹیکنالوجی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا ٹیلی کام جرمانوں اور ناقص انٹرنیٹ سروسز پر کارروائی کی تفصیلات طلب

  • اتھارٹی سے جرمانوں کی مد میں وصول شدہ رقم اور تاحال واجب الادا قابلِ وصول رقوم کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کے ناقص اور غیر تسلی بخش معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹیلی کام آپریٹرز پر عائد کیے گئے جرمانوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

سید امین الحق کی زیرصدارت جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے پی ٹی اے کو گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو جاری کیے گئے تمام شوکاز نوٹسز اور عائد کردہ جرمانوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اتھارٹی سے جرمانوں کی مد میں وصول شدہ رقم اور تاحال قابلِ وصول واجب الادا رقوم کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کے معیار کی باقاعدگی سے سروس کے معیار (کیو او ایس) کے سروے کرتی ہے اور آپریٹرز کو خامیوں کے ازالے کے لیے 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق مقررہ مدت کے بعد دوبارہ سروے کیا جاتا ہے اور اگر خامیاں برقرار رہیں تو متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرکے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

اتھارٹی نے بتایا کہ ٹیلی کام آپریٹرز پر 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایک بڑا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپریٹرز جرمانے ادا کرنے کے بجائے انہیں عدالتوں میں چیلنج کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی اور خامیوں کی اصلاح میں تاخیر ہوتی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں تمام متعلقہ ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے تاکہ وہ انٹرنیٹ سروسز بہتر بنانے، موجودہ بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور نیا ٹیلی کام انفرااسٹرکچر تیار کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کریں۔

کمیٹی نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کی صورتحال پر بھی غور کیا۔

ممبر ٹیلی کام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانس ایکٹ 2021 کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ دیا گیا تھا۔

تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بتایا گیا کہ نیپرا کا مؤقف ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز مطلوبہ ویلیو ایڈیشن فراہم نہیں کرتے۔

کمیٹی نے ممبر ٹیلی کام کو ہدایت کی کہ اس معاملے کے قانونی، مالی اور تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کی جائے اور فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں نیپرا کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ ملنے سے ٹیلی کام ٹاورز کو بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ بجلی کی بندش کے باعث ٹیلی کام ٹاورز بند ہوسکتے ہیں، جس سے موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے ٹیلی کام سروسز کی بلاتعطل فراہمی اور ان کے معیار میں بہتری کے لیے بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ترامیم پر پارٹی کی پارلیمانی قانون سازی کمیٹی سے تاحال مشاورت نہیں کی گئی۔

کمیٹی نے وزارت خزانہ کو مطلوبہ مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔