حوثیوں کا سعودی توانائی تنصیبات پر حملہ، 70 سے زائد افراد زخمی، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- واقعے نے ایران تنازع کے وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کو مزید نمایاں کردیا ہے
ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے منگل کو امریکا کے اتحادی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات اور شہروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے ایران تنازع کے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
ایران میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری تنازع میں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ سلسلہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد شروع ہوا جن کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے کرنے کی اس کی صلاحیت کو روکنا اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی معاونت محدود کرنا تھا۔
حوثیوں کے حملے ایران کی اس دھمکی کے بعد کیے گئے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر خلیج اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر ایک دوسرے کے خلاف کیے گئے حملوں کے بعد خلیج بھر میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، بشمول امریکی تیل و گیس کے مفادات، خطرے سے دوچار ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
سعودی وزارتِ توانائی نے کہا ہے کہ توانائی کی بعض تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹنگ اور دیگر ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے جنوبی حصے کے چار شہروں پر کیے گئے حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے۔
کرنل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اتحاد دہشت گرد ملیشیا کی روک تھام کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گا اور اس کے جارحانہ طرزِ عمل کا بھرپور عزم کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔
حوثی جو یمن کے گنجان آباد علاقوں اور ملک کے بیشتر شمالی حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں، جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی عرب کی جانب حملے کررہے ہیں جن میں بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بحیرۂ احمر کے راستے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ ایران اہم آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت محدود کیے ہوئے ہے اور اس ہفتے اجناس بردار بحری جہازوں کی آمدورفت ایک بار پھر سست پڑگئی ہے۔
ایران کا خلیج فارس میں ’بحری ممنوعہ زون قائم کرنے کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں خلیج میں ایک نیا محدود علاقہ قائم کرنے کا اعلان کرے گا جس کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے بحری راستے کے نقشے بھی جاری کیے جائیں گے، تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ ان کی تفصیلات کب سامنے آئیں گی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ نیا محدود علاقہ وہاں سے شروع ہوگا جہاں سے امریکا کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی شروع ہوتی ہے اور خلیج کے بعض علاقوں تک پھیلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔
منگل کو محسن رضائی نے ایکس پر ایک بار پھر اقتصادی اور فوجی نوعیت کی دوہری دھمکیاں جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن کو ایران کے نئے میزائلوں کے ذریعے واضح انتباہ دیا گیا ہے۔
اقتصادی جنگ کا جواب خلیج فارس میں بحری آمدورفت کے لیے ایک ممنوعہ زون قائم کرکے دیا جائے گا جو ناکہ بندی کی حدود تک پھیلا ہوگا۔
محسن رضائی نے کہا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے ہماری عملی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے۔
رضائی غالباً قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کا حوالہ دے رہے تھے جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی جنگی بحری جہازوں کی جانب داغا گیا تھا۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس کے جنگی بحری جہاز کسی بھی میزائل حملے سے محفوظ رہے۔