امریکی ایلچیوں سے یوکرین مذاکرات مفید رہے، کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، کریملن
- پیوٹن نے دونوں امریکی نمائندوں کو بتایا کہ روس میدانِ جنگ میں حقیقی پیش رفت کر رہا ہے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتے کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے والے 2 امریکی ایلچیوں کے ساتھ 3 گھنٹے سے زائد انتہائی مفید مذاکرات کیے، تاہم کریملن کے ایک معاون نے کہا کہ بات چیت میں کسی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے جنگ کے ممکنہ تصفیے کے لیے مختلف راستوں سے متعلق متعدد تجاویز پیش کیں۔ تاہم اوشاکوف نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ پیوٹن نے دونوں امریکی نمائندوں کو بتایا کہ روس میدانِ جنگ میں حقیقی پیش رفت کر رہا ہے اور اسے اپنے اہداف حاصل کرنے کا یقین ہے۔ روسی صدر نے اس کے ساتھ ساتھ تنازع کی تمام بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ماسکو فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے بارہا یہی مؤقف دہراتا رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں فریقوں نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی حملوں میں اضافہ کیا ہے، جبکہ محاذ پر صورتحال بڑی حد تک جمود کا شکار ہے۔