امریکا، ایران میں مذاکرات کے امکانات معدوم، تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے سے 88.92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو اس وقت ایک ڈالر سے زائد اضافہ ہوا، جب واشنگٹن نے تصدیق کی کہ دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے، جس کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امیدیں بھی ماند پڑ گئیں۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے سے 88.92 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 19 سینٹ یا 0.23 فیصد بڑھ کر 82.42 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ یہ قیمتیں صبح 11:35 بجے مشرقی وقت (1535 جی ایم ٹی) پر ریکارڈ کی گئیں۔
جغرافیائی سیاسی خطرات سے متعلق مشاورتی ادارے اسکارب رائزنگ کی صدر ایرینا تسوکرمن نے کہا کہ “ڈبلیو ٹی آئی میں کمزوری امریکا میں خام تیل کی طلب و رسد کے نسبتاً بہتر توازن کی عکاسی کرتی ہے۔”
بدھ کو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی اطلاع دی، جس میں اوکلاہوما کے شہر کشنگ میں واقع ترسیلی مرکز کے ذخائر میں بھی اضافہ شامل ہے۔
تاہم تین سیشنز کی مسلسل گراوٹ کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بڑھانے میں مددگار سفارتی پیش رفت کی توقعات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور تیل کی سپلائی بدستور محدود رہنے سے مارکیٹ کی توقعات میں تبدیلی آسکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم تمام آپشنز اب بھی زیرِ غور ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا، “اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ شاید ایران بامعنی انداز میں مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہے۔ ابھی تک ہمیں ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔”
قطر کے وزیراعظم نے ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کے لیے تہران کا دورہ کیا، جہاں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں۔ خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز اب بھی محدود آمدورفت کا شکار ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان پر امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔
امریکا نے پیر کو ایران کے خلاف “تاریخ کی سخت ترین پابندیوں” کا اعلان کیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ان معاشی اقدامات سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائیوں کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے پابندیوں کو ”غیر انسانی اور دشمنانہ اقدام“ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اپنی تاثیر کھو چکی ہیں۔
کے سی ایم کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا، ”اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کسی معاہدے کے حوالے سے امید قبل از وقت ثابت ہو اور مذاکرات تعطل کا شکار ہوجائیں یا دوبارہ ناکام ہوجائیں۔ ایسی صورت میں قیمتوں میں خطرے کا پریمیم تیزی سے واپس آ سکتا ہے۔“
فلپ نووا کی ہیڈ آف مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوہ نے کہا کہ تنازع کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس کے فوری حل ہونے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والے دباؤ کے اختیار کی اہمیت سے بھی واقف ہے، اس لیے طویل غیر یقینی صورتحال کا خطرہ برقرار ہے۔
فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی ہوتا تھا۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اجناس بردار کشتیوں کی تعداد میں معمولی بہتری آئی اور 10 جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے۔ یہ حالیہ کم ترین سطح سے زیادہ تعداد ہے، تاہم 10 روزہ اوسط 15 جہازوں سے اب بھی کم ہے۔ آبنائے سے نکلنے والے جہازوں میں درمیانے حجم کا فیول ٹینکر، بٹومین ٹینکر اور ایک بلک کیریئر شامل تھے۔
دوسری جانب روس کی جانب سے یوکرین کی طرف سے برطانوی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں یوکرین کے اندر اور باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگیا۔