آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کا جلوس عراق میں داخل، ہزاروں افراد کا مارچ
- ہجوم کے اوپر عراقی اور ایرانی پرچموں کے ساتھ ایران نواز طاقتور عراقی ملیشیاؤں کے بینرز بھی لہرا اٹھے
ایران کے شہید رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کے ساتھ عراق کے مقدس شہر نجف میں ماتمی جلوس نکالا گیا، ان کی چھ روزہ آخری رسومات کا یہ سلسلہ، جس میں ان کے اپنے ملک میں لاکھوں کا ہجوم دیکھا گیا تھا، اب سرحد پار تک پھیل گیا ہے۔
اس راستے پر جمع ہونے والے لوگوں نے شہید رہنما کی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور جب آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کو ایک بڑے ٹرک کے ذریعے گلیوں سے گزارا گیا تو انہوں نے ”امریکہ مردہ باد“ اور ”اسرائیل مردہ باد“ کے نعرے لگائے۔ہجوم کے اوپر عراقی اور ایرانی پرچم لہرا رہے تھے، جن کے ساتھ عراق کی ان طاقتور ایران نواز ملیشیاؤں کے بینرز بھی موجود تھے جن کے حامی اس جلوس میں شامل ہوئے تھے۔
پیغمبرِ اسلام کے چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علیؑ کا مدفن ہونے کی وجہ سے نجف کو دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت حاصل ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت منگل کی شام نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا، جہاں عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی، اعلیٰ حکام اور مذہبی شخصیات نے سرکاری سطح پر اس کا استقبال کیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈرز بھی اس جلوس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں، جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ عراقی مزارات کے شہر کربلا تک جاری رہے گا اور بعد ازاں تدفین کے لیے تابوت ایران واپس منتقل کر دیا جائے گا۔