رائے

2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو

  • مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں
  • دوسری جانب بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:

شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔

شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔

مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔

زرعی شعبہ

پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔

لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

صنعتی شعبہ

اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔

انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔

اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔

مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔

خدمات کا شعبہ

آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔

خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔

آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔

اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔

خلاصہ اور نتیجہ

مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026