دنیا

اسرائیل کا جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی سرنگ تباہ کرنے کا دعویٰ

  • حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 02:17pm

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیر استعمال ایک بڑی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دو روز قبل ہی لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک سکیورٹی معاہدہ طے پایا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مشترکہ بیان کے مطابق حملے میں جنوبی لبنان کے قصبے مجدل زون میں واقع تقریباً 200 میٹر طویل سرنگ کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ سرنگ میں سینکڑوں ہتھیار اور راکٹ لانچر موجود تھے، جبکہ اس کارروائی سے قبل امریکا کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اس سے قبل بھی جنوبی لبنان کے نبطیہ علاقے میں راکٹ لانچر اور راکٹ بردار دستی بموں سے لیس حزب اللہ جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم اب تک جنگ بندی کی پابند رہی ہے، تاہم وہ تمام خلاف ورزیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے وطن اور عوام کے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے سکیورٹی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا اور واضح کیا کہ تنظیم اپنی مسلح مزاحمت جاری رکھے گی۔

ادھر نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں موجود رہے گی اور اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے حزب اللہ کے ڈھانچے اور دیگر خطرات کو ختم کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ لبنان میں جاری جھڑپوں کے باعث 10 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔