پاکستان

محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں مون سون بارشوں کی پیش گوئی، فلیش فلڈ کا انتباہ

  • 30 جون کی شب مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 01:27pm

پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک بھر کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون کا سیزن جولائی 2026 کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، 30 جون کی شب مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

پی ایم ڈی کے مطابق، اس وقت بحیرۂ عرب سے نمی سے بھرپور ہوائیں ملک کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ خلیج بنگال سے آنے والی ہوائیں 2 جولائی تک ملک کے بالائی علاقوں تک پہنچ جائیں گی۔ اس موسمی نظام کے باعث ملک بھر میں جاری شدید گرمی اور حبس میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

یکم سے 6 جولائی کے دوران آزاد کشمیر میں مختلف مقامات پر بارش، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع، جن میں دیر، سوات، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور دیگر علاقے شامل ہیں، میں یکم سے 5 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ سمیت پنجاب کے شمالی اور وسطی اضلاع میں یکم سے 6 جولائی تک بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں 3 سے 5 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارش ہونے کا امکان ہے۔

گلگت بلتستان میں یکم سے 5 جولائی تک بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ بلوچستان کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں، جن میں ژوب، سبی اور نصیر آباد شامل ہیں، میں یکم سے 4 جولائی تک بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سندھ کے شمالی اضلاع، جن میں سکھر، لاڑکانہ، دادو اور جیکب آباد شامل ہیں، میں 3 اور 4 جولائی کو آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

محکمہ موسمیات نے اس موسمی نظام سے متعلق کئی اہم خطرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور انفراسٹرکچر، بشمول سولر پینلز، بل بورڈز اور بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ 2 سے 6 جولائی کے دوران بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقوں کے ندی نالوں اور ڈیرہ غازی خان کے برساتی نالوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) آنے کا بھی امکان ہے۔

مزید برآں، یکم سے 4 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، لاہور اور فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں موسلادھار بارش کے باعث شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل چوکس رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔ سیاحوں اور مسافروں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ پیش گوئی کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انتہائی احتیاط برتیں۔

کاشتکاروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم کی متوقع تبدیلی کے پیش نظر اپنی زرعی سرگرمیوں کو اسی کے مطابق ترتیب دیں اور اپنے مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔