لبنانی فوج کے سربراہ پاکستان پہنچ گئے، امریکا ایران تنازع پر سفارتی کوششیں جاری
- ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر سفارتی مذاکرات سے متعلق ہے
لبنان کے آرمی چیف روڈولف ہیکل ہفتے کے روز پاکستان روانہ ہو گئے، جہاں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ لبنانی فوج نے اس کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ دورہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر مذاکرات سے جڑا ہوا ہے۔
لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ہیکل ”اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورے کے لیے لبنان سے روانہ ہوئے ہیں“۔
معاملے سے واقف ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہیکل کا یہ دورہ ”امریکا اور ایران کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں“ سے منسلک ہے۔ دونوں ممالک مشرقِ وسطیٰ میں جاری علاقائی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
تاہم ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا کہ ”لبنان ان مذاکرات کا ایک اہم حصہ ہے،“
لبنان اس جنگ میں اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے 2 مارچ کو اسرائیل پر حملہ کیا، جسے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ قرار دیا گیا۔
اس کے جواب میں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں اور زمینی کارروائی کا آغاز کیا، جس میں تقریباً 3,600 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں ایک جاری جنگ بندی کے باوجود بھی مکمل طور پر بند نہیں ہو سکیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
تاہم لبنانی صدر جوزف عون نے جمعہ کو نشر ہونے والے سی این این کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کو لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہیے، کیونکہ بیروت خود اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ آپ کا ملک نہیں، ہمارا ملک ہے۔ ہمارے معاملات میں مداخلت آپ کا کام نہیں۔“
صدر عون نے مزید کہا کہ ”وہ لبنان کو امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں ایک سودے بازی کے کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔“
دوسری جانب لبنان کی فوج نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ملک کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی حملے میں اس کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسی دوران واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان رواں ہفتے ایک نئی مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کو فائرنگ روکنا، اسرائیلی سرحد کے قریب سے انخلا کرنا ہوگا، جبکہ لبنانی فوج کو سرحدی علاقے میں نئے ”پائلٹ زونز“ میں تعینات کیا جائے گا جہاں اسے مکمل کنٹرول حاصل ہوگا۔
تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے انخلا کرے۔