دنیا

تعطل برقرار : ایران جنگ بندی کے لیے مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے

  • ایران نے عارضی معاہدے کے مجوزہ حتمی متن پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے تک معاہدہ طے پانے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کی امریکی وعدہ خلافیوں کے باعث وہ سخت اور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ ایران جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے ایک محدود عارضی ڈیل کا خواہاں ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ بندی اور منجمد فنڈز تک رسائی شامل ہو۔ دوسری طرف لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکی ثالثی سے جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اس پر اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس دوران ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر بیروت پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ ’باب المندب‘ کی ناکہ بندی بھی کر سکتا ہے۔