ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں، ٹرمپ
- امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں، حالانکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے نئے محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں توسیع کے خلاف احتجاجاً ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں دوبارہ حملوں کا عندیہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک نہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق ہو سکا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکا ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں زمینی کارروائیاں مزید گہری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو بیروت کے جنوبی علاقوں میں مبینہ دہشت گرد اہداف پر حملوں کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے ان علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت بھی کی۔
ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند ہونے تک کسی وسیع معاہدے یا جوہری مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بھی جنوبی لبنان میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان اور غزہ میں سرخ لکیریں عبور ہونے کی صورت میں ایران اسے براہِ راست جنگ تصور کرے گا اور دفاعی کارروائیوں کے ساتھ نئے محاذ بھی کھول سکتا ہے۔ تسنیم کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے باب المندب کے محاذ کو بھی فعال کر سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔