پاکستان

ایران۔امریکہ امن عمل پاکستان کے لیے قومی اہمیت کا حامل، دفترِ خارجہ

  • پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ایک مسلمہ اور دستاویزی حقیقت ہیں، طاہر اندرا بی
شائع اپ ڈیٹ

دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن عمل پاکستان کے لیے قومی اہمیت کا حامل معاملہ ہے جو خطے میں استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ قومی عزم اور اجتماعی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے پُرامن اور دیرپا حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ پر زور دیا۔

پاکستان کے ثالثی کردار میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو پسِ پشت ڈالے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آپ نے سائیڈ لائن کی اصطلاح استعمال کی ہے، میں انتہائی واضح الفاظ میں اس تاثر کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کی امن و سفارتی کوششوں، جن میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورے بھی شامل ہیں، کو محض محکماتی تقسیم یا محدود انتظامی تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے پاکستان مکمل طور پر متحد ہے، لہٰذا میں اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی تاکید کروں گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم شہبازشریف، نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ، چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ پاکستان کی ان سفارتی کوششوں میں صفِ اول میں شامل رہے ہیں۔

انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لحاظ سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے دوروں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

محسن نقوی نے رواں ہفتے ایران کے دو اہم دورے کیے، ایک 16 مئی اور دوسرا 20 مئی کو، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔

علاقائی سلامتی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ایک مسلمہ اور دستاویزی حقیقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کا کیس ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔ اسی طرح بھارتی دہشت گرد نیٹ ورکس کی جانب سے دیگر ممالک کی حدود میں ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔

پانی کے تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے طاہر اندرا بی نے راتلے اور کشن گنگا منصوبوں کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے حوالے سے 15 مئی کو ثالثی عدالت کے اضافی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی توثیق کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے کنٹرول کے حوالے سے واضح، ٹھوس اور بنیادی حدود عائد کرتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026