آبنائے ہرمز سے بعض جہازوں کی آمدورفت جاری رہنے کا ایرانی دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے فیوچر 73 سینٹ، یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 104.90 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جو اس سے قبل 107.13 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے تھے
جمعرات کو خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمتوں میں اس وقت معمولی کمی دیکھی گئی، جب ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ حالیہ گھنٹوں کے دوران تقریباً 30 بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں، جبکہ نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے بعض چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا شروع کر دی ہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچر 73 سینٹ، یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 104.90 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جو اس سے قبل 107.13 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے تھے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل کے فیوچر 20 سینٹ، یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 100.82 ڈالر فی بیرل پر رہے۔
بدھ کو بھی دونوں معاہدوں میں کمی دیکھی گئی تھی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کے بعد امریکا میں شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ برینٹ خام تیل کے فیوچر دو ڈالر سے زیادہ فی بیرل گر گئے تھے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی فیوچر میں ایک ڈالر سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا ضروری ہے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ ”چین کی نشاۃِ ثانیہ“ اور ”امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا“ ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
میٹاڈور اکنامکس کے چیف اکانومسٹ ٹِم سنائیڈر نے کہا، ”بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا ایران جہازوں کو اس لیے گزرنے دے رہا ہے تاکہ چین کی ایران کے لیے حمایت مذاکرات کا توازن متاثر نہ کرے۔“
وائٹ ہاؤس کے مطابق شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز پر چین کے انحصار کو کم کرنے کے لیے مزید امریکی تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ چین، جو ماضی میں بھی امریکی خام تیل کا بڑا خریدار نہیں تھا، مئی 2025 سے اب تک امریکا سے کوئی خام تیل درآمد نہیں کر رہا، کیونکہ تجارتی جنگ کے دوران عائد کیے گئے 20 فیصد درآمدی ٹیرف برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو توانائی کی ترسیل کا ایک اہم عالمی راستہ ہے، فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہے۔
ایران نے بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر لیا ہے اور خطے سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے عراق اور پاکستان کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ سے قبل عراقی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل لے جانے والا ایک چینی سپر ٹینکر بدھ کو آبنائے ہرمز عبور کر گیا، جو دو ماہ سے زائد عرصے تک خلیج میں پھنسا رہا تھا۔
ایل ایس ای جی کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جاپانی ریفائننگ گروپ کے زیرِ انتظام پاناما پرچم بردار ایک خام تیل بردار ٹینکر بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا، اور یہ جاپان سے منسلک کسی تیل بردار جہاز کے گزرنے کا دوسرا واقعہ ہے۔
تاہم افریقہ سے متحدہ عرب امارات جانے والا، مویشیوں کی کھیپ لے جانے والا ایک بھارتی کارگو جہاز جمعرات کو عمان کے ساحل کے قریب پانیوں میں ڈوب گیا۔
پی وی ایم آئل مارکیٹ کے تجزیہ کار تاماس وارگا نے کہا، ”گزرنے کی اجازت پانے والے جہازوں کی بڑھتی تعداد کا اثر حقیقی طلب و رسد کے توازن کے مقابلے میں مارکیٹ کے رجحان پر زیادہ پڑ رہا ہے۔“
انہوں نے کہا، ”اگرچہ اس سے قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں کے لیے ایک حد مقرر ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایسا عنصر نہیں جو قیمتوں میں نمایاں کمی لا سکے۔“
بین الاقوامی توانائی ایجنسی ( آئی ای اے) نے بدھ کو کہا کہ رواں سال عالمی تیل کی رسد مجموعی طلب سے کم رہے گی کیونکہ ذخائر غیر معمولی رفتار سے کم ہو رہے ہیں۔
امریکا میں 8 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر 43 لاکھ بیرل کم ہو کر 45 کروڑ 29 لاکھ بیرل رہ گئے، جس کی وجہ برآمدات میں اضافہ تھا، امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (آئی ای اے) نے بتایا، اگرچہ ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر توقعات کے برخلاف بڑھ گئے۔