مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید، پاکستان نے ایل این جی کی اسپاٹ بولیاں منسوخ کردیں
- اسپاٹ مارکیٹ سے کارگو لینے سے گریز کرنا ایک خطرناک جوا ہے، رپورٹ
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) جو کہ عالمی مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے والا ایک سرکاری ادارہ ہے نے دو کم ترین بولیوں کو اس امید پر منسوخ کردیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بہتر ہوجائے گی جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جائے گی اور قطر سے سپلائی دوبارہ بحال ہوجائے گی۔
بلوم برگ نے جمعہ کو معاملے سے باخبر تاجروں کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے مئی میں ڈلیوری کے لیے طلب کیے گئے دو ہنگامی کارگو کے ٹینڈرز کسی کو ایوارڈ نہیں کیے جن کی میعاد جمعرات کو ختم ہوگئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس نظریے پر فیصلہ کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کم ہورہا ہے اور پاکستان کو جلد ہی قطر سے دو کارگو موصول ہوجائیں گے۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے رواں ماہ کے آخر میں پورٹ قاسم کراچی پر دو ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی سپلائرز سے بولیاں طلب کی تھیں۔ یہ کارگو ڈلیورڈ ایکس شپ(ڈی ای ایس) کی بنیاد پر فراہم کیے جانے تھے جن کیلئے 12 سے 14 مئی اور 24 سے 26 مئی کی تاریخیں مقرر کی گئی تھیں۔
بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسپاٹ مارکیٹ سے کارگو لینے سے گریز کرنا ایک خطرناک جوا ہے کیونکہ اس سے ملک میں گیس کی قلت مزید شدت اختیار کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔
تاہم قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت پاکستان کو ملنے والی سپلائی کی قیمت اس وقت اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
قطری وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل کردار کی تعریف کی۔