ایران کا امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز سے پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ، امریکہ کی میزائل حملے کی تردید
- ایران نے انتباہی فائر کیا تھا اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنگی جہاز کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں، سینئر ایرانی عہدیدار
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پیر کو ایک امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک کر واپس جانے پر مجبور کر دیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے میزائل حملے کی رپورٹوں کی فوری تردید کر دی ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے انتباہی فائر کیا تھا اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنگی جہاز کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
عالمی معیشت کے لیے پہلے ہی بھاری نقصان کا باعث بننے والی اس اہم بحری گزرگاہ کے طویل عرصے تک بند رہنے کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ واشنگٹن اور ایران کے درمیان تنازع کے مذاکراتی حل کی جانب پیش رفت کے آثار تاحال کم نظر آ رہے ہیں۔
ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس نے ”تیز اور فیصلہ کن وارننگ“ جاری کر کے ”امریکی صیہونی“ جنگی جہازوں کو آبنائے کے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا کہ آبنائے کے جنوبی داخلی راستے پر واقع بندرگاہ ’جاسک‘ کے قریب دو میزائل امریکی جہاز کو لگے، لیکن سینٹ کام نے کسی بھی جنگی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”پروجیکٹ فریڈم“ کی حمایت کر رہی ہیں، جس کا مقصد خلیج میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو بحفاظت باہر نکالنا اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے ان جہازوں اور عملے کی مدد کے منصوبے کی زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں جو خوراک اور دیگر سامان کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ شپنگ کمپنیوں نے بھی فی الحال سفر دوبارہ شروع کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ٹرمپ نے اتوار کو اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا: “ہم نے ان ممالک کو بتا دیا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو ان محدود آبی گزرگاہوں سے بحفاظت باہر نکالیں گے، تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔
ایرانی فوج کی وارننگ
ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں ایران کی مشترکہ کمانڈ نے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کی فوج کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت سے گریز کریں۔ فورسز کی مشترکہ کمانڈ کے سربراہ علی عبداللہی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی ہمارے ہاتھ میں ہے اور جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ کسی بھی غیر ملکی مسلح فوج، خاص طور پر جارح امریکی فوج پر حملہ کیا جائے گا اگر انہوں نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے اپنی ترسیل کے علاوہ تقریباً تمام بحری ٹریفک کو روک رکھا ہے، جس سے دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ کٹ گیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم کے لیے 15,000 فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرے گا۔ سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے یہ دفاعی مشن ناگزیر ہے۔
عالمی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے مطابق سینکڑوں تجارتی جہاز اور تقریباً 20,000 ملاح اس تنازع کے دوران آبنائے سے گزرنے سے قاصر ہیں۔ شپنگ اور تیل کی صنعت کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ صرف فوجی قافلے کافی نہیں ہیں، بلکہ عام ٹریفک کی بحالی کے لیے جنگ بندی اور کسی قسم کے امن معاہدے کی ضرورت ہے۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ابوظہبی کی سرکاری کمپنی ادنوک کے ایک خالی ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا ہے۔
ایک مثبت پیش رفت میں پاکستان نے بتایا کہ امریکہ نے ایرانی کنٹینر جہاز کے 22 عملے کے ارکان کو رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ ماہ پکڑا گیا تھا۔ پاکستان جو امن معاہدے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہا ہے نے اسے ایک اعتماد سازی کا اقدام قرار دیا ہے۔
امن تجاویز پر ایرانی غور
امریکہ اور اسرائیل نے چار ہفتے قبل ایران کے خلاف بمباری مہم معطل کر دی تھی اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کا ایک دور بھی ہو چکا ہے، لیکن مزید ملاقاتیں نہ ہو سکیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے ایران کی 14 نکاتی تجویز کا جواب دے دیا ہے جس کا اب تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ تہران تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے بشمول لبنان پر اسرائیلی حملوں اور جہاز رانی کے مسئلے کو پہلے حل کرنا چاہتا ہے جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو مؤخر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران 400 کلوگرام سے زائد اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے۔ ایران اپنے پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے لیکن پابندیوں کے خاتمے کے بدلے کچھ حد بندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ پر اس وقت شدید دباؤ ہے کہ وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل پیٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم کریں، تاکہ ان کی پارٹی کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔