دنیا

امریکہ ایران جنگ کی اہم ڈیڈ لائن قریب، تنازع بدستور جاری

  • جنگ کے خاتمے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں
شائع May 1, 2026 اپ ڈیٹ May 1, 2026 03:53pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جمعہ کو ایک ایسی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے جس کے تحت انہیں یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنی ہے یا اس میں توسیع کیلئے کانگریس کے سامنے ٹھوس وجوہات پیش کرنی ہیں تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ تاریخ کسی بڑی تبدیلی کے بغیر ہی گزر جائے گی اور یہ تنازع جو بحری تجارتی راستوں کے معاملے پر تعطل کا شکار ہو چکا ہے اپنی موجودہ ڈگر پر برقرار رہے گا۔

جنگ کے خاتمے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے بجائے تجزیہ کاروں اور کانگریس کے معاونین کا کہنا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ٹرمپ کانگریس کو 30 دن کی توسیع کے اپنے ارادے سے آگاہ کریں گے یا اس ڈیڈ لائن کو نظر انداز کردیں گے تاہم ان کی انتظامیہ یہ دلیل دے رہی ہے کہ تہران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی تنازع کے خاتمے کی علامت ہے۔

تلخ سیاسی تقسیم کے شکار کانگریس کی دیگر پالیسیوں کی طرح جنگ کے اختیارات کا معاملہ بھی شدید گروہ بندی کی نذر ہوچکا ہے۔ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کانگریس جنگ کے اعلان سے متعلق اپنے آئینی حق کو دوبارہ بحال کرے جب کہ ریپبلکنز ڈیموکریٹس پر یہ الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ وار پاورز قانون کو صدر ٹرمپ کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈیموکریٹس نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا ایسی قراردادیں منظور کرنے کی کوشش کی ہے جن کے ذریعے ٹرمپ کو امریکی افواج واپس بلانے یا کانگریس سے باقاعدہ اجازت لینے پر مجبور کیا جا سکے، تاہم سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں معمولی اکثریت رکھنے والے ٹرمپ کے حامی ریپبلکنز نے تقریباً متفقہ طور پر ان کوششوں کو ووٹنگ کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔

ریپبلکنز نے جمعرات کو سینیٹ میں ایسی ہی چھٹی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا جو کہ وار پاورز کی ڈیڈ لائن سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ تاہم، ریاست مین سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سوسن کولنز جنہوں نے ماضی کی قراردادوں کے خلاف ووٹ دیا تھا، اب اپنی پارٹی کی دوسری رکن بن گئی ہیں جنہوں نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ ان کے علاوہ کینٹکی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رینڈ پال پہلے ہی ان تمام قراردادوں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت صدر صرف 60 دنوں تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے جس کے بعد اسے یا توختم کرنا ہوتا ہے یا کانگریس سے باقاعدہ اجازت لینا ہوتی ہے یا پھرامریکی مسلح افواج کی سلامتی کے حوالے سے ناگزیر فوجی ضرورت کی بنیاد پر 30 دن کی توسیع طلب کرنی پڑتی ہے۔