پاکستان اور جنوبی کوریا کا تجارتی و سرمایہ کاری تعاون بڑھانے اور سیپا مذاکرات تیز کرنے پر اتفاق
- یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت ییو ہان کو کے درمیان ورچوئل میٹنگ کے دوران سامنے آئی
پاکستان اور جنوبی کوریا نے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سیپا) پر مذاکرات کو تیز کرنے پر اتفاق کیا جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات میں نئی روح پھونکنے کا اشارہ ہے۔
جمعہ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت ییو ہان کو کے درمیان ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران سامنے آئی۔ اس ملاقات میں سیکرٹری تجارت جواد پال اور دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
ملاقات کے آغاز میں کوریا کے وزیرِ تجارت نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے دوران امن کے فروغ میں پاکستان کے قائدانہ کردار کی تعریف کی۔
ییو ہان کو نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے بہتر ہیں۔
جام کمال خان نے اس اعتراف کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے مذاکرات کی سہولت کاری اور امن کے فروغ میں ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری کوششیں خطے میں استحکام کا باعث بنیں گی جو عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور معاشی روابط کے لیے ناگزیر ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے جاری سیپا مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ایک باہمی طے شدہ وقت کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنے کے مشترکہ مقصد کے ساتھ تکنیکی روابط کو تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ پرعزم اور متوازن ہونا چاہیے اور اس میں دونوں ممالک کی متعلقہ معاشی حقیقتوں کی عکاسی ہونی چاہیے۔
پاکستان کی معاشی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے جام کمال نے زراعت، کان کنی، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل (ادویات)، سرجیکل آلات اور کھیلوں کے سامان سمیت متعدد شعبوں میں موجود مواقع پر زور دیا۔
انہوں نے تجارتی شراکت داری میں تنوع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نوٹ کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ممالک نئی منڈیاں تلاش کریں اور لچکدار معاشی روابط استوار کریں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تزویراتی محلِ وقوع کی بدولت وسطی ایشیا اور افریقہ کے لیے ایک گیٹ وے (راستہ) کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
کورین وزیر نے نوٹ کیا کہ بہت سے کورین ادارے پاکستان کو ایک محفوظ اور امید افزا منزل سمجھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کے خواہش مند ہیں، بالخصوص مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیپا جیسا منظم فریم ورک سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ کرے گا اور وسیع تر معاشی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
سرمایہ کاری سے متعلق خدشات پر جام کمال نے یقین دلایا کہ پاکستان میں کام کرنے والی کورین کمپنیوں کو درپیش مسائل متعلقہ وزارتوں کے تعاون سے حل کیے جائیں گے۔
انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں اطراف نے ایک مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باقاعدہ ادارہ جاتی رابطوں اور دوطرفہ تجارتی معاملات پر موثر فالو اپ کو یقینی بنانے کے لیے اس طریقہ کار کو بحال اور حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے سیپا کے تحت ٹیرف کی لبرلائزیشن (ٹیکسوں میں کمی) میں ایک متوازن اور ترقیاتی لحاظ سے حساس نقطہ نظر کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔