اقتصادی رابطہ کمیٹی کا مہنگائی میں کمی اور استحکام پر اطمینان کا اظہار
- ای سی سی اجلاس میں معیشت کی مجموعی صورتحال اور مختلف مالی و انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کے روز اپنے اجلاس میں نوٹ کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے دباؤ اگرچہ اب بھی موجود ہیں، تاہم ان میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور قیمتوں میں استحکام کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔
یہ اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں معیشت کی مجموعی صورتحال اور مختلف مالی و انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارتِ دفاع کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی واجبات کی ادائیگی کے لیے 5.985 ارب روپے کی فراہمی سے متعلق سمری بھی زیر غور آئی۔ کمیٹی نے اس رقم میں سے طبی اخراجات، پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی کی منظوری دے دی، جبکہ نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کو ادائیگی کا معاملہ متعلقہ ریونیو اتھارٹی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے لیے بھیجنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے چیف اکنامسٹ نے اہم معاشی اشاریوں پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مربوط اقدامات کے باعث قیمتوں میں استحکام کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعے مارکیٹ نگرانی مضبوط ہونے سے بروقت اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے جبکہ کئی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن، ایل پی جی اور چینی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈے، مرغی، دالیں، کوکنگ آئل، روٹی اور دودھ کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بتدریج مستحکم سطح کے قریب آ رہی ہیں، جس کی وجہ مؤثر انتظامی اقدامات، بہتر سپلائی چین نگرانی اور وفاقی و صوبائی اداروں کی بہتر ہم آہنگی ہے۔
ای سی سی نے متعدد تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی، جن میں کیبنٹ ڈویژن کے تحت کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 10 کروڑ روپے، بلوچستان حکومت کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے، اور پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے شامل ہیں۔
مزید برآں کمیٹی نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے جبری مشقت سے تیار شدہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ ساتھ ہی پرانی گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مرمت، ری فربشمنٹ اور دوبارہ برآمد کے لیے عارضی درآمد کے پائلٹ منصوبے کی بھی منظوری دی گئی، جس کا ایک سال بعد جائزہ لیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026