کاروبار اور معیشت

متحدہ عرب امارات کے قرض کی ادائیگی قریب، سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر دینے کا فیصلہ

  • اضافی فنڈنگ موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی واپسی کی مدت میں طویل عرصے کے لیے توسیع کے علاوہ ہے، محمد اورنگزیب
شائع April 15, 2026 اپ ڈیٹ April 15, 2026 12:14pm

سعودی عرب پاکستان کو اپنے مالی معاملات میں کئی ارب ڈالر کا فرق دور کرنے کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرے گا جس کا مقصد متحدہ عرب امارات کو قرض کی آئندہ ادائیگی میں مدد دینا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کے لیے یہ اضافی فنڈنگ ریاض کی جانب سے پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی واپسی کی مدت (رول اوور) میں طویل عرصے کے لیے توسیع کے علاوہ ہے۔

یہ اقدام ریاض اور اسلام آباد کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں گزشتہ سال ایک باہمی دفاعی معاہدے کے ذریعے مزید مستحکم کیا گیا تھا جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) میں تعاون کے لیے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ رکھنے پر راضی ہوگیا ہے۔

پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کا سامنا ہے جس سے اس کے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے جو 27 مارچ تک تقریباً 16.4 ارب ڈالر تھے۔

متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی یہ ادائیگی مجموعی ذخائر کے تقریباً 18 فیصد کے برابر ہے۔

7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملک جون تک 18 ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے جمعہ کو پاکستان کا دورہ کیا جسے معاملے سے واقف ایک ذرائع نے معاشی مدد کا اظہار قرار دیا تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ یہ مدد پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے ایک اہم وقت پر حاصل ہوئی ہے اور اس سے زرمبادلہ ذخائر کو بہتر بنانے اور ملک کے بیرونی اکاؤنٹ کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو مارکیٹوں سے وابستہ اپنی ذمہ داریوں اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے مطابق برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔