مشرقِ وسطیٰ بحران، وزیراعظم شہباز شریف کا فرانسیسی صدر اور بحرین کے بادشاہ سے امن اقدامات پر تبادلۂ خیال
- شہباز شریف اور میکرون نے لبنان میں تشدد اورقتل وغارت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی الخلیفہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دونوں رہنماؤں سے ٹیلی فون پر الگ الگ رابطوں میں اسلام آباد کی جانب سے خطے میں قیام امن کے اقدامات پر بھی بات کی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق صدر میکرون نے وزیراعظم کو پاکستان کی ان ثالثی کوششوں پر مبارکباد دی جن کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر آئے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے سفارتی اقدامات کی حمایت کرنے پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تشدد اور ہلاکتوں کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ پورے خطے میں امن بحال ہو سکے۔ دونوں رہنماؤں نے مسلسل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ بادشاہ حمد کے مہربان الفاظ اور ایران، امریکہ جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی حمایت پر شکر گزار ہیں، اور امید ہے کہ اس سے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ”میں نے حالیہ دشمنیوں کے دوران بحرینی قیادت کی جانب سے مثالی تحمل کے مظاہرے کو سراہا، قیمتی جانوں کے نقصان پر تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔“
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اس سے قبل پاکستان اور سعودی عرب نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ تشویش نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں ظاہر کی گئی۔ دونوں شخصیات نے پائیدار امن اور استحکام کے لیے جنگ بندی کے مکمل احترام اور نفاذ پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم نے پائیدار امن کے حصول کے لیے پاکستان کی کوششوں کی سعودی حمایت کو سراہا۔
علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالس سے بھی بات چیت کی۔
دونوں جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مشرق وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ یورپی نمائندہ نے امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دریں اثنا پاکستان کے دفتر خارجہ نے لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور انفرااسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرا بی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی اقدامات خطے میں امن کے قیام کی بین الاقوامی کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔