ایران جنگ کا پھیلائو، خام تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ
- برینٹ خام تیل کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز مزید اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں برینٹ کروڈ ایک تاریخی ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پھیلاؤ کے باعث سامنے آیا ہے، خاص طور پر یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.09 ڈالر اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 2.92 ڈالر اضافے کے بعد 102.56 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اس سے قبل جمعہ کے روز بھی دونوں بینچ مارکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رواں ماہ کے دوران برینٹ کی قیمتوں میں 59 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جو 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں تنازع خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل چکا ہے، جو تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستے ہیں۔ جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق اب خطرہ صرف ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع سمندری راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے یومیہ 4.658 ملین بیرل تیل برآمد کیا۔ تاہم اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو سعودی عرب کو مصر کی سومید پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ روم تک رسائی اختیار کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب عمان کے صلالہ ٹرمینل کو بھی حملوں میں نقصان پہنچا ہے، جس سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی زمینی حملے کا بھرپور جواب دے گا، جبکہ پاکستان نے سفارتی سطح پر جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مذاکرات کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔