کاروبار اور معیشت

پہلی ششماہی ، سی فوڈ کی برآمدات 22 فیصد اضافے سے 253 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں

  • یہ کارکردگی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی سمندری ماہی گیری کی بڑھتی ہوئی مسابقت کی عکاسی کرتی ہے ، وفاقی وزیر سمندری امور
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے سمندری ماہی گیری کے شعبے نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں زبردست ترقی کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں جولائی سے دسمبر 2025 کے درمیان سی فوڈ کی برآمدات 122,629.11 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت 253.24 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو یہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں برآمدات کی مقدار میں 19.1 فیصد اور قدر میں 21.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس کارکردگی کو عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مسابقت اور مسلسل برآمدی رفتار کا نتیجہ قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے ماہی گیری کو قومی معیشت کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافے، کولڈ چین لاجسٹکس کی بہتری اور عالمی معیار کے مطابق سرٹیفیکیشن کے ذریعے یہ شعبہ وبائی دور کے تعطل سے باہر نکل آیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق منجمد مچھلی 53.33 ملین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری رہی، جس کے بعد جھینگے اور کٹل فش کا نمبر رہا۔ اس کے علاوہ کیکڑے، سارڈینز اور مچھلی کے چارے جیسی دیگر مصنوعات نے بھی برآمدی آمدن میں اضافہ کیا۔

چین 149.2 ملین ڈالر کی درآمدات کے ساتھ پاکستان کی سمندری غذا کا سب سے بڑا مرکز رہا، جو کل برآمدات کا تقریباً 59 فیصد بنتا ہے۔ تھائی لینڈ 31.3 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، جاپان، یورپی یونین، سعودی عرب اور امریکہ کو بھی برآمدات میں وسعت دی گئی۔

وفاقی وزیر نے اس کامیابی کا سہرا کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی سمندری تنظیم (آئی ایم او) کے ساتھ تعاون کے سر باندھا۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات جیسے چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے ’بلیو اکانومی‘ کی حکمت عملی اور پائیدار ماہی گیری کے ذریعے سمندری حیات کے تحفظ پر زور دیا۔