وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی برآمدات کو بحال کرنے کی اپنی مہم کے تحت، بنیادی طور پر نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ایک نو تشکیل شدہ ورکنگ گروپ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ زرعی پیداوار کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے، یہ مقصد اگرچہ قابلِ تحسین ہے، لیکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گیسوں کے اخراج کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے پیدا ہونے والے بگاڑ نے اسے متاثر کیا ہے۔

تاہم اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، اس کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ اس کا ثبوت 2022 کے سیلاب ہیں جس نے تقریباً 33 ملین افراد کو بے گھر کر دیا تھا جن میں سے بہت سے متاثرین ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی بحالی کے لیے تگ و دو کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لائیواسٹاک (مویشیوں) اور ماہی گیری سمیت زرعی پیداوار کو 3.7 ارب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا۔

2025 کے سیلاب سے 4.25 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں سے 1.8 ملین بے گھر ہوئے۔ اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ زرعی پیداوار پر منفی اثرات نہیں پڑے، لیکن نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 2025 کے اختتام تک رپورٹ کیا کہ ملک کے زرعی مرکز پنجاب کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا،اس دوران 21 ملین سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور تقریباً 2 ملین ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی۔

پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت یہ عہد کیا تھا کہ موجودہ مالی سال کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں مختص کردہ سبسڈیز (رعایتوں) کا سہارا لیا جائے گا۔

تاہم وفاقی بجٹ میں مختص کردہ کل 587.3 ارب روپے کی سبسڈیز میں سے 529 ارب روپے توانائی شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جسے تدارکاتی اقدامات کے طور پر براہِ راست فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، زراعت کے لیے صرف 22 ارب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس شعبے کو بالواسطہ فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

بجٹ دستاویزات میں اس بات کی قطعی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ مختص کردہ سبسڈیز کا کون سا حصہ گرین کمپوننٹ (ماحول دوست جزو) پر مشتمل ہے۔ تاہم، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زراعت ایک صوبائی معاملہ ہے اور چاروں صوبائی بجٹ میں سے کسی میں بھی اس شعبے کے لیے تدارک یا مطابقت سے متعلق سبسڈیز کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی۔

پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کے برآمدی ریونیو (آمدن) میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے جو کہ یا تو بنیادی اجناس (بنیادی طور پر چاول، کپاس اور پھل) کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یا پھر ویلیو ایڈڈ اشیاء (جیسے ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات) کی صورت میں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہمارے غذائی تحفظ کو تیزی سے ختم کر رہی ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زراعت ملک کے کل روزگار کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 25 فیصد حصہ ڈالتی ہے، اس بحران کو حل کرنے کے لیے وزیراعظم کی توجہ اور کوششوں کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے۔

لہٰذا، ٹاسک فورس کی توجہ سابقہ حکومتوں کی طرح ایسی پالیسیوں پر مرکوز ہے جو فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے کا تصور پیش کرتی ہیں۔ ان میں معلومات کی وسیع پیمانے پر ترسیل اور بنیادی مداخل (جیسے کھادیں، کیڑے مار ادویات، اور زیادہ پیداوار دینے والی بیجوں کی اقسام) تک رسائی کو آسان بنانا شامل ہے، خاص طور پر ان چھوٹے کسانوں کے لیے جو ہمارے زرعی شعبے کا بڑا حصہ ہیں۔

مزید برآں، یہ ٹاسک فورس پروسیس شدہ زرعی اجناس کے لیے سرٹیفیکیشن سسٹم متعارف کروانے اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔

امید کی جانی چاہیے کہ یہ ٹاسک فورس اکتوبر 2024 کی (توسیعی فنڈ سہولت) کی منظوری کی دستاویزات میں کیے گئے مشاہدات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ ان دستاویزات میں خاص طور پر یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ: حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور خریداری کے نظام نے زرعی شعبے کو صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے سامنے بے اثر بنا دیا ہے، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کے مسائل کو مزید سنگین کیا ہے، جدت طرازی کی حوصلہ شکنی کی ہے، وسائل کا غلط استعمال کیا ہے، اور مالیاتی استحکام پر بوجھ ڈالا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے ان مداخلتوں کو ختم کردینا چاہیے۔ سرکاری ملکیتی اداروں یا صوبائی خوراک کے محکموں کی جانب سے زرعی اجناس کی کسی بھی قسم کی خریداری صرف اور صرف قومی غذائی تحفظ کے محدود مقصد کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ اسے کسانوں کی آمدنی بڑھانے یا بنیادی اشیائے خورونوش پر غیر ہدف شدہ سبسڈیز فراہم کرنے جیسی نیم مالیاتی سماجی پالیسیوں کے طور پر استعمال کیا جائے۔

شعبے میں حقیقی اصلاحات کے آغاز کی جانب پہلے قدم کے طور پر جس چیز پر غور کرنا ضروری ہے، وہ ایلیٹ کیپچر (اشرافیہ کا قبضہ) کو ختم کرنے کے لیے فعال طور پر تدارکاتی اقدامات کرنا ہے۔ شوگر ملز مالکان کا حد سے زیادہ اثر و رسوخ، جس کے سنگین نتائج نہ صرف غریب کسانوں اور مقامی صارفین پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ بعض سالوں میں ہمارے زرمبادلہ ذخائر کو بھی متاثر کرتے ہیں (جب کبھی برآمدی سبسڈی دی جاتی ہے)، ماضی اور حال کی تقریباً تمام حکومتوں کے دوران واضح رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، گندم کی تھریشنگ (کٹائی اور گہائی) سے وابستہ بااثر حلقے بھی غیر معمولی طاقت کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے وہ بہت زیادہ غیر متوقع منافع کماتے ہیں۔ مزید برآں، آڑھتی (مڈل مین) کسی بھی خوف کے بغیر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جو غریب اور چھوٹے کسانوں کے ساتھ ساتھ مقامی صارفین کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس شعبے میں فوری طور پر ساختی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اشرافیہ کے اس ہمہ گیر اثر و رسوخ کو جلد از جلد ختم کیا جا سکے۔