Startup Recorder

پاکستان جیسا مگر زیادہ بڑا، کولابس کا سعودی عرب میں بڑا منصوبہ

  • کولابس صرف ایک فلیکسبل ورک اسپیس فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ کمپنیوں کو مکمل مدد فراہم کرتا ہے
شائع December 16, 2025 اپ ڈیٹ December 16, 2025 11:35am

پاکستان کے ہنگامہ خیز شہروں میں ایک فلیکسبل ورک اسپیس اسٹارٹ اپ نے تیزی سے اپنی پہچان بنا لی ہے۔ 2019 میں قائم ہونے والا کولابس (COLABS) سخت مقابلے کے باوجود نمایاں ہو گیا ہے، جس میں دفتر خوان(Daftarkhwan) اورہائیو(Hive) کے ساتھ کک اسٹارٹ (Kickstart) جیسے حریف بھی شامل ہیں۔

کولابس صرف ایک فلیکسبل ورک اسپیس فراہم کرنے والا ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ کمپنیوں کو مکمل مدد فراہم کرتا ہے، جس میں کمپنی قائم کرنے میں انسانی وسائل (ایچ آر) کی معاونت بھی شامل ہے۔

اس کے کراچی میں شاہراہ فیصل اور فیز 5 میں دو مکمل فعال دفاتر ہیں، جبکہ لاہور میں چار دفاتر ہیں، جہاں سے اس کا آغاز ہوا، جب اس نے پاکستان کی سب سے قدیم تولیہ فیکٹری کو کولابس کے فلیگ شپ کیمپس میں تبدیل کیا۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایک آنے والی سائٹ بھی ہے۔

کو-فاؤنڈر اور سی ای او کولابس عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ہمارا شاہراہ فیصل کا دفتر واقعی بہت بڑا ہے، اس میں ڈیجیٹل اوشن (ایک اے آئی کمپنی) کی پوری ٹیم شامل ہے، جو 350 سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔

اگرچہ کاروبار بڑھ رہا ہے، لیکن مقامی مارکیٹ کے تجزیے کے بعد اسٹارٹ اپ نے نتیجہ اخذ کیا کہ کراچی اگرچہ لاہور کے مقابلے میں زیادہ آمدنی پیدا کرتا ہے، لیکن پاکستان میں آپریشنل لاگتوں میں اضافہ اور مارکیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے منافع کے حاشیے محدود رہتے ہیں۔

عمر شاہ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا اگر آپ کاروبار کو بڑھانا اور اسکیل کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں۔ سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔

اس اسٹارٹ اپ کے پاس ایک انتخاب تھا: یا تو پاکستان میں سست رفتاری سے ترقی جاری رکھیں یا کسی نئے، اعلیٰ صلاحیت والے مارکیٹ میں قدم رکھیں۔

ان کی نظریں سعودی عرب پر مرکوز ہو گئیں، جو 35 ملین کی آبادی اور بڑے صارفین کے اخراجات والی ایک ابھرتی ہوا مارکیٹ ہے۔ سعودی عرب میں آمدنی پاکستان سے 10 گنا زیادہ ہے، لہٰذا صرف ایک مقام وہاں ہماری پاکستان کی کاروبار کا تقریباً 70 سے 80 فیصد کے برابر ہوگا۔

عمر شاہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی ویژن 2030 کی منصوبہ بندی اور فلیکسبل آفس اسپیس کی مانگ نے اسٹارٹ اپ کے لیے سنہری موقع پیدا کیا۔ میرا مطلب ہے، سعودی عرب میں سرمایہ کاری کا مطلب بنتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں کمپنیاں کاروبار کھولنا چاہتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف آفس اسپیس کی بڑی مانگ ہے بلکہ کسی کو کمپنی قائم کرنے میں مدد کرنے کی ضرورت بھی ہے، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو کولابس بہترین طریقے سے کرتا ہے۔

اس اسٹارٹ اپ کو یہ بھی یقین ہے کہ اسے برتری حاصل ہے کیونکہ مقامی حریف وہاں اچھا کام نہیں کرتے۔

تاہم، یہ سفر آسان نہیں تھا۔ ایک سال کی بنیاد سازی، تعلقات قائم کرنے اور مقامی ضوابط سے ہم آہنگ ہونے کے بعد، کمپنی نے ریاض میں اپنی پہلی عمارت حاصل کر لی ہے، جو زیر تعمیر ہے۔

کولابس کے سی ای او عمر شاہ نے کہا اگر آپ کاروبار کو 100 ملین ڈالر کی آمدنی تک پہنچانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں شاید دس سے پندرہ سال لگیں، سعودی عرب میں یہ شاید دو سے تین سال میں ممکن ہے۔

عمر شاہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرا اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلق ہے، اور ایک جیسا ثقافتی پس منظر بھی موجود ہے، جو کسی پاکستانی اسٹارٹ اپ کے لیے فائدہ مند ہے۔

یہ پاکستان جیسا ہے، مگر زیادہ شدت کے ساتھ… ایک ابھرتا ہوا، نئے مواقع والا، بہت کم مقامی کھلاڑی ہیں، لیکن نئے کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں۔

لنکڈ ان پر ایک پوسٹ میں عمر شاہ نے کہا کہ سعودی عرب اسکیل، امنگ، اور رفتار کا نایاب امتزاج پیش کرتا ہے، جو خطے میں کسی اور جگہ نہیں پایا جاتا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پچھلے دو سالوں میں مینا خطے میں کوئی ٹیک ایکوسسٹم سعودی عرب کی طرح تیزی سے نہیں بڑھا۔

انہوں نے لکھا کہ اب خطے میں 40 فیصد سے زیادہ وینچر فنڈنگ سعودی مملکت میں جا رہی ہے۔ لیکن سرمایہ سے آگے جو سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ ٹیلنٹ ہے۔ یہاں جو توانائی، مہارت، اور ارادہ میں نے دیکھا، چاہے وہ مقامی افراد ہوں یا وہ لوگ جو یہاں منتقل ہونے کا انتخاب کر چکے ہیں، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

سعودی عرب خطے کی سب سے کامیاب ٹیک کمپنیوں کو بھی پیدا کر رہا ہے۔ سلا سے فوڈکس، اور ٹیبی سے تمارا تک، اب یہ فِنٹیک، ساس، اور کامرس کے شعبوں میں کیٹیگری کے لیڈرز کا گھر ہے۔ اگلے دو سالوں میں، خطے میں 10 سے 15 ٹیک آئی پی اوز متوقع ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر سعودی ہیڈکوارٹرڈ ہوں گی۔

اسی دوران، ملک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انفراسٹرکچر اور تخلیقی صنعتوں میں گہری سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک واضح وژن کی نشاندہی کرتی ہے؛ ایک ایسا وژن جہاں ٹیکنالوجی اور ثقافت مل کر معیشت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فلسفے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک ایسی مارکیٹ ہے جو ہمارے پلیٹ فارم کے لیے تیار ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو سرمایہ، ٹیلنٹ، اور تخلیقیت کو اس طرح جوڑتا ہے جو ملک کے وسیع تر تبدیلی کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔

دریں اثنا، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ سعودی عرب میں داخل ہونے والی کسی پاکستانی کمپنی کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ وہ ایک مختصر ٹیم کے ساتھ آغاز کرے، جو آپ کی سیلز، آؤٹریچ، بزنس ڈیولپمنٹ کرے، اور پاکستان میں ایک اچھا بیک آفس ہو جو اس کی مدد کر رہا ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی غیر ملکی علاقے کی طرح، ابتدائی طور پر سعودی عرب میں کام کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ حوصلے اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن جب آپ اندر آ جائیں، تو یہ بہت اچھی مارکیٹ ہے۔

2023 تک، اسٹارٹ اپ نے 5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جو عوامی طور پر ظاہر کی گئی تھی۔عمر شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے سعودی عرب کے لیے اضافی فنڈ حاصل کیا ہے، لیکن ہم نے اس رقم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا، یہ دو ہندسوں میں ایس اے آر کی رقم ہے۔

فی الحال کولابس خلیج کے خطے پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے۔ ہم ریاض میں متعدد مقامات پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پہلے ہی مانگ اور مواقع دیکھ رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کرایہ داروں کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔

دریں اثنا، پاکستان میں، کمپنی نے کولابس کریئیٹو کلیکٹو قائم کیا ہے، جس نے فن، کاروبار، اور کمیونٹی کو یکجا کیا ہے، اور اس نے نہ صرف اسٹارٹ اپس بلکہ انٹرپرائز کلائنٹس اور فری لانسروں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ یہ کچھ ایسا ہے جو کمپنی سعودی عرب میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

منافع بخش اسٹارٹ اپ کا مقصد اگلے سال 3 گنا آمدنی حاصل کرنا، پانچ سال میں 100 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنا، اور بالآخر مینا خطے میں قدم جما لینا ہے۔

عمر شاہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو سعودی عرب، قطر، اردن، پاکستان، بنگلہ دیش میں کام کرتا ہو۔ اور اگر ہم اگلے چند سالوں میں اس مارکیٹ شیئر کو حاصل کر لیں، تو میرا مطلب ہے، ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

کو-فاؤنڈر اب ایک ایسی کمپنی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو خود چل سکے، ان کی مداخلت کے بغیر۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یقین کرتا ہوں کہ ہم نے اس کا 60فیصد سے 70 فیصد حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی بھی عملی طور پر بھاری ہے۔ ہمارے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔