پاکستان

برآمد کنندگان کو بڑا ریلیف، 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم

  • اس سے نہ صرف برآمدی شعبے پر مالی دباؤ کم ہوگا بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی
شائع November 25, 2025 اپ ڈیٹ November 25, 2025 08:57am

وزارت تجارت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج (ای ڈی ایس) فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے نہ صرف برآمدی شعبے پر مالی دباؤ کم ہوگا بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔

وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا جس میں مقامی اور بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی۔

یہ فیصلہ اس ورکنگ گروپ کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا جو وزیر اعظم نے ای ڈی ایس اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کے مؤثر استعمال کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی مصدق ذوالقرنین کر رہے تھے جبکہ اس میں نجی شعبے کے نمائندوں کے علاوہ سیکریٹری تجارت بلال اظہر کیانی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ای ڈی ایف مشرف زیدی اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ گروپ نے ای ڈی ایف سے چلنے والے منصوبوں کا تفصیلی تجزیہ کیا اور برآمدات کے فروغ کے لیے اصلاحاتی تجاویز پیش کیں جو گزشتہ ہفتے وزیر اعظم کو پیش کی گئیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ای ڈی ایس کو فوراً معطل کیا جائے تاکہ برآمد کنندگان کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی بھی ہدایت دی گئی جو نجی شعبے کے نمائندوں کی سربراہی میں ای ڈی ایف میں موجود تقریباً 52 ارب روپے کے مؤثر استعمال کی نگرانی کرے گی۔ واضح کیا گیا کہ یہ فنڈ صرف تحقیق و ترقی، اسکل ڈویلپمنٹ اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے منصوبوں پر خرچ ہوگا اور کسی بھی قسم کے انفراسٹرکچر منصوبے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں برآمدی صنعتوں پر غیر متناسب ٹیکس بوجھ کا بھی جائزہ لیا گیا اور تسلیم کیا گیا کہ برآمدی شعبہ مقامی مارکیٹ کے لیے کام کرنے والے کاروباروں کی نسبت زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس حوالے سے شہزاد سلیم کی سربراہی میں ایک الگ ورکنگ گروپ اپنی رپورٹ پہلے ہی پیش کر چکا ہے جس پر جلد الگ اجلاس متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق ای ڈی ایس موجودہ قوانین کے تحت وصول کیا جا رہا تھا جس میں اب اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ترمیم کی جائے گی۔ ساتھ ہی ٹڈاپ اور دیگر تجارتی اداروں کے مالی معاملات کے لیے متبادل نظام بھی وضع کیا جائے گا۔ برآمد کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں یہ سرچارج اس وقت نافذ کیا گیا تھا جب حکومت مختلف مراعات فراہم کر رہی تھی، مگر آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے بعد وہ مراعات ختم ہو چکی ہیں، اس لیے ای ڈی ایس کا خاتمہ ناگزیر تھا۔

وزیر اعظم نے ای ڈی ایف کے گزشتہ 5 سالہ مالی معاملات کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت دی تاکہ کسی بھی قسم کی بدانتظامی یا وسائل کے غلط استعمال کی نشاندہی کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ حکومت اس مرحلے پر وسیع تر ریلیف نہیں دے سکتی، تاہم ای ڈی ایس کا خاتمہ برآمدی شعبے کا جائز حق ہے اور یہ اقدام ملکی معیشت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025