وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کو 14 سمریوں کی منظوری دی جن میں مختلف وزارتوں اور محکموں کے جاری منصوبوں اور اقدامات کے اخراجات کے لیے مالی سال 2024-25 کے دوران تقریباً 2.629 ٹریلین روپے کے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جی) کی درخواست کی گئی تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مالی سال 2025-26 کے لیے نیچرل گیس کی قیمتوں کے ڈھانچے کی بھی منظوری دی جس کے تحت بلک صارفین، نیچرل گیس پر چلنے والے بجلی گھروں اور صنعتوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 10 فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دی گئی۔
ای سی سی نے مالی سال 2024-25 کے دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے جاری منصوبوں اور اقدامات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے متعدد تکنیکی اضافی گرانٹس (ٹی ایس جی) کا جائزہ لے کر منظوری دے دی۔
ان میں وزارت خزانہ کے لیے 829.67 ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) مقامی قرضوں کی ادائیگی اور 1,774.20 ارب روپے کی گرانٹ بیرونی قرضوں کی واپسی کے لیے، وزارتِ دفاع کے لیے 15.839 ارب روپے کی گرانٹ تنخواہوں، الاؤنسز، ملازمین و غیر ملازمین سے متعلق اخراجات کے خسارے کی تلافی اور حالیہ پاک-بھارت جنگ کے شہداء کے لیے وزیراعظم کے پیکیج کے تحت واجبات کی ادائیگی کے لیے منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے دفتری اور رہائشی عمارتوں کے کرایوں کی مد میں ناگزیر اور لازمی اخراجات پورے کرنے کے لیے وزارت خزانہ کو 6.3 کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ دی گئی۔
ای سی سی نے وزارتِ خارجہ کے لیے 10 کروڑ روپے کی تکنیکی اضافی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی بھی منظوری دی تاکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ”اوورسیز وفود“ سے متعلق اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ اسی طرح وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے لیے 1.765 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی تاکہ فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (شمالی و جنوبی) اور بلوچستان (شمالی و جنوبی) کی عملی ضروریات اور واجب الادا ادائیگیاں پوری کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد پولیس کے مختلف اکاؤنٹس کی زیر التواء واجبات کی ادائیگی کے لیے 30 کروڑ روپے، قانون و امن کی صورتحال کے دوران فراہم کی گئی خدمات و اشیاء کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 10 کروڑ روپے، اور پولیس اسٹیشنز میں جدید تفتیشی آلات کی فراہمی اور بہتر ماحول کی فراہمی کے لیے 5 کروڑ 22 لاکھ 41 ہزار روپے کی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (شمال) کے لیے بھی مالی سال 2024-25 کے دوران 10 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔
ای سی سی نے مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے لیے 5.5 ارب روپے کی گرانٹ بطور روپے کور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کو فراہم کرنے کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ، وزارت پیٹرولیم کے ترقیاتی منصوبے ”پاکستان پیٹرولیم کور ہاؤس کی توسیع اور اپ گریڈیشن“ کے اخراجات کے لیے 11 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار روپے، فنانس ڈویژن کو بلوچستان حکومت کے تحت تعینات پی اے ایس / پی ایس پی افسران کے لیے ترغیبی پیکیج کی مد میں 25 کروڑ 45 لاکھ 70 ہزار روپے، اور وزارت داخلہ و انسداد منشیات کو اسلام آباد میں ایگزیکٹو بلڈنگ کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 19 کروڑ 80 لاکھ روپے کی تکنیکی اضافی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔
ای سی سی نے وزارت پیٹرولیم کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا جس میں مالی سال 2025-26 کے لیے نیچرل گیس کی قیمتوں کے نظرثانی شدہ ڈھانچے کی منظوری طلب کی گئی تھی جو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
اوگرا آرڈیننس کے تحت وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اوگرا کی جانب سے تعین کی گئی قیمتوں کے بعد 40 دن کے اندر نظرثانی شدہ صارف گیس قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ لاگت کی وصولی اور ضابطہ جاتی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ یہ تجویز ان ساختی اہداف سے بھی مطابقت رکھتی ہے جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے طے پائے گئے ہیں، جن میں کیپٹیو پاور ٹیرف کا ازسرنو تعین اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے کراس سبسڈی کی جگہ براہِ راست اور ہدفی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔
ای سی سی نے توانائی شعبے کے ٹیرف میں مجوزہ رد و بدل پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ گھریلو صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں کو برقرار رکھا جائے گا تاہم اثاثہ جات کی لاگت کی وصولی کے لیے صرف گھریلو شعبے میں مقررہ چارجز کو دوبارہ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے بلک صارفین، نیچرل گیس پر چلنے والے بجلی گھروں اور صنعتوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 10 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی۔
ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (ایم این ایف ایس آر) کی جانب سے چینی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے چینی درآمد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں اس سمری پر بحث کی گئی اور وزارت کی اس تجویز کی منظوری دی گئی کہ ایک 10 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی جائے، جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کریں گے۔ اس کمیٹی میں وفاقی وزیر تجارت، وزیر خارجہ کے لیے معاون خصوصی، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہوں گے، جو اس معاملے پر اپنی سفارشات کے ساتھ دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش ہوں گے۔
ای سی سی نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہوم ریمیٹنسز (ترسیلات زر) کے مراعاتی اسکیموں میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق سمری پر بھی غور کیا، اور اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ اس حوالے سے اثرات کا تجزیہ اور منتقلی کے لیے ایک منظم لائحہ عمل کے ساتھ جامع منصوبہ مرتب کر کے 31 جولائی تک ای سی سی کے سامنے پیش کریں۔
کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے چھوٹے کسانوں اور پسماندہ علاقوں کے لیے رسک کوریج اسکیم شروع کرنے سے متعلق سمری پر بھی غور کیا اور اس تجویز کی اصولی منظوری دے دی۔ ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ اس اسکیم کو مزید بہتر بنایا جائے اور اس میں اضافی حفاظتی اقدامات شامل کیے جائیں، تاکہ اسے 14 اگست 2025 کو مجوزہ تاریخ کے مطابق باقاعدہ طور پر شروع کیا جاسکے۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت اندازاً 7 لاکھ 50 ہزار نئے زرعی قرض دہندگان کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے گا اور مالی سال 2026 سے 2028 تک کے تین سالہ اجرا کے دوران 300 ارب روپے کا اضافی زرعی قرض فراہم کیا جائے گا۔ اسکیم کے تحت بینکوں کے لیے رسک کوریج اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بجٹ میں مجموعی طور پر 37.5 ارب روپے درکار ہوں گے، جو مالی سال 2027 سے 2031 کے درمیان مرحلہ وار فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں کئی اہم وفاقی وزراء نے شرکت کی جن میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان شامل تھے جبکہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے سینئر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025