سعودی اتحاد کا ریاض کی جانب داغے گئے دو حوثی میزائل تباہ کرنے کا اعلان
- اتحاد نے بعد میں بتایا کہ اس نے ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں داغے گئے دو کروز میزائل بھی روک کر تباہ کردیے ہیں۔
سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد نے اتوار کو ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد سامنے آئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکوں سے کچھ دیر قبل سعودی سول ڈیفنس نے ریاض کے علاقے میں خطرے کا انتباہ جاری کیا تھا۔ بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ خطرے کی صورت حال ختم ہوچکی ہے۔
اتحاد نے بعد میں بتایا کہ اس نے ریاض اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں داغے گئے دو کروز میزائل بھی روک کر تباہ کردیے ہیں۔
یمن میں فریقین کے درمیان تازہ لڑائی نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی ختم کردی ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی بحالی کے لیے عرب ممالک کے اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے مداخلت کی تھی۔
فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ میں یمن کا تنازع بھی ایک محاذ بن چکا ہے۔
جولائی میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد حوثی باغی سعودی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب یمن میں حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہا ہے۔
یہ تازہ واقعہ اس کے ایک روز بعد پیش آیا ہے جب حوثیوں کے زیر انتظام یمن کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا تھا کہ صنعا کے قریب سعودی فضائی حملوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔





















Comments