کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ معمول کے حالات میں اس کے 11 کے وی کے تقریباً 72 فیصد فیڈرز، جن میں تمام صنعتی فیڈرز بھی شامل ہیں، لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں جبکہ حالیہ گیس بحران کے دوران پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور زیر زمین کیبلز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندشوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاور ڈویژن کو ارسال کردہ مراسلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی نے بتایا کہ اس کے مجموعی 2 ہزار 136 فیڈرز میں سے ایک ہزار 531، یعنی 72 فیصد، لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں جبکہ باقی 605 فیڈرز جو مجموعی تعداد کا 28 فیصد ہیں پر مجموعی تکنیکی اور تجارتی نقصانات (اے ٹی اینڈ سی لاسز) کی بنیاد پر مرحلہ وار لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے۔ ان نقصانات میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی بھی شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی لوڈشیڈنگ پالیسی قومی بجلی پالیسی 2021 کے اصولوں کے مطابق ہے اور دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
کے الیکٹرک نے وضاحت کی کہ 6 سے 12 اکتوبر 2026 کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ملک کو گیس بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی متاثر ہوئی اور اس عرصے میں ایل این جی کا کوئی کارگو دستیاب نہیں تھا۔ صورتحال مزید خراب ہونے کی وجہ نیپرا کی جانب سے بن قاسم پاور اسٹیشن ون (بی کیو پی ایس۔ون) کی 360 میگاواٹ اور کورنگی پاور کمپلیکس (کے پی سی) کی 220 میگاواٹ صلاحیت کو ڈی نوٹیفائی کرنا تھا حالانکہ دونوں بجلی گھر متبادل ایندھن پر بھی چلائے جاسکتے ہیں۔
بجلی کی پیداوار میں کمی پر قابو پانے کے لیے کے الیکٹرک نے نیپرا کو خط لکھ کر بن قاسم پاور اسٹیشن ون کو فرنس آئل پر چلانے کی اجازت طلب کی۔ کمپنی کے مطابق اس اقدام سے بجلی کی پیداوار میں کمی پوری کرنے اور ان فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ محدود رکھنے میں مدد ملی جو معمول کے حالات میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں۔
کے الیکٹرک نے مزید بتایا کہ آر ایل این جی کے کارگو پہنچنے کے بعد ایندھن کی فراہمی معمول پر آگئی ہے اور اس وقت بجلی کی فراہمی بھی معمول کے آپریشنل حالات کے مطابق برقرار رکھی جا رہی ہے۔
کمپنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تکنیکی خرابیوں، نظام کی دیکھ بھال یا صارفین کی جانب سے پیدا ہونے والے مسائل کے باعث بجلی کی بندش کو اکثر غلطی سے لوڈشیڈنگ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ بندشیں طے شدہ لوڈ مینجمنٹ سے مختلف ہوتی ہیں۔
کمپنی نے کراچی بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کے دوران غیر مجاز کھدائی اور کدالوں کے استعمال کو اپنے زیر زمین کیبل نیٹ ورک کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اور نیٹ ورک کے نظام میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
کے الیکٹرک کے مطابق بعض علاقوں میں بجلی کی بندش کی وجہ بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں بھی ہیں۔ ان میں بجلی کے غیر قانونی کنکشنز (کنڈے) ہٹانا اور عارضی طور پر بجلی منقطع کرنا شامل ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدامات متاثرہ فیڈرز سے وصولیوں اور مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے آخری چارے کے طور پر کیے جاتے ہیں۔
کمپنی کا مؤقف تھا کہ ایسی کارروائیوں کو لوڈشیڈنگ قرار نہیں دیا جانا چاہیے، کیونکہ ان کا مقصد بجلی چوری کی روک تھام، وصولیوں میں بہتری اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔
کے الیکٹرک نے اپنے سروس ایریا کے تمام فیڈرز کے تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وصولیوں کی بہتر کارکردگی اور بجلی چوری میں کمی کے نتیجے میں بالآخر لوڈشیڈنگ بھی کم ہوگی۔
دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی بندشوں میں کمی لانے کی ہدایت کی۔






















Comments