بھارت، فلپائن کو میزائلوں کی فروخت بڑھانے کے لیے حتمی مذاکرات میں مصروف
- بھارت فلپائن کو براہموس سپرسانک میزائلوں کی فروخت بڑھانے جا رہا ہے، جس سے منیلا کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا
بھارت 2022 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت میزائلوں کی فراہمی مکمل کرنے کے قریب پہنچنے کے بعد فلپائن کو سپرسانک کروز میزائلوں کی فروخت میں توسیع کے لیے حتمی مرحلے کے مذاکرات کر رہا ہے۔ اس معاملے سے براہِ راست آگاہ تین ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا۔
بھارتی ذرائع میں سے دو کے مطابق، فلپائن تقریباً پانچ براہموس میزائل سسٹمز خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں مجموعی طور پر لگ بھگ 60 میزائل شامل ہوں گے۔ اس ممکنہ معاہدے کی مالیت 70 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔
بھارتی ذرائع میں سے ایک نے بتایا، ’’منیلا نے ایک بار پھر براہموس کے تقریباً پانچ سسٹمز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اب وہ بھارت کو ایک انتہائی قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔‘‘
فلپائن کے ساتھ بھارت کا یہ ممکنہ نیا معاہدہ گزشتہ 375 ملین ڈالر کے براہموس میزائلوں کے بحری استعمال سے متعلق آرڈر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالیت کا ہوگا۔ فلپائن اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور متنازع بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ساحلی دفاع مضبوط بنانے کے اقدامات کر رہا ہے۔
بھارت اور روس کے مشترکہ تعاون سے تیار کردہ براہموس دنیا کے تیز رفتار ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے، جسے زمینی، بحری اور فضائی پلیٹ فارمز سے داغا جاسکتا ہے۔
فلپائن کی وزارتِ دفاع کے ترجمان آرسینیو اینڈولونگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے مزید براہموس میزائل حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، آرسینیو اینڈولونگ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
فلپائن کے وزیر دفاع گلبرٹو تیودورو نے بدھ کے روز دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک براہموس میزائل سسٹمز کی مزید یونٹس حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق، فلپائن نے بھارتی حکام کو اپنی ضروریات پر مشتمل فہرست بھی فراہم کی ہے تاکہ اس میزائل سسٹم کو فلپائن کے مخصوص جغرافیائی اور دفاعی ماحول سے زیادہ ہم آہنگ بنایا جاسکے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس ممکنہ معاہدے کی مالیت اور حجم کی تفصیلات پہلی بار رپورٹ کی ہیں۔
یہ اضافی خریداری ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب بحیرہ جنوبی چین میں متنازع سمندری حدود پر چین کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث منیلا اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند برسوں کے دوران اس تنازع پر متعدد تصادم بھی ہوچکے ہیں۔
بھارت کی وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ اور میزائل تیار کرنے والے ادارے براہموس ایرو اسپیس نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کے بعد براہموس میزائل سسٹم میں عالمی دلچسپی بڑھ گئی ہے، جس کے دوران بھارت نے پہلی مرتبہ جنگی کارروائی میں اس ہتھیار کا استعمال کیا تھا۔
جولائی میں نئی دہلی نے انڈونیشیا کو براہموس میزائلوں کی فراہمی کا اعلان کیا تھا، جبکہ ویتنام کے ساتھ بھی اس حوالے سے معاہدہ طے پاچکا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ اور برازیل سمیت متعدد دیگر ممالک سے بھی اس میزائل سسٹم کی فروخت کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بھارت کی دفاعی برآمدات 384.24 ارب بھارتی روپے (4.11 ارب ڈالر) تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 62 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔























Comments